سیاہ ست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
سیاہ ست لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 12 ستمبر، 2012

مولانا ڈیزل اور ان پر لگنے والے الزامات

گذشتہ دنوں ایک مولانا صاحب سے ملاقات ہوئی جو خیر سے مولانا فضل الرحمن کے  پر جوش حمایتی اور  مرید تھے۔ ہماری پھوٹی قسمت کہ باتوں باتوں میں مولانا فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل کہہ بیٹھے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اپنی مصیبت کو آواز دے بیٹھے کہ آ مولانا مجھے مار۔ خیر یہ لقب سننا تھا کہ وہ صاحب جلال میں آ گئے اور پنجے جھاڑ کہ مجھ پہ چڑھ دوڑے اور زور و شور سے مولانا کے حق میں دلائل دینے لگے جو کہ دلائل کم اور فضائل زیادہ تھے اور بلا توقف انہوں نے ہمیں عظیم گستاخی اور گناہ کا مرتکب قرار دے دیا جس کا مداوا نا ممکن ہے جو کہ صرف خدا کے حضور توبہ سے ہی ہو سکتا ہے یا پھر مولانا کو کالے بکروں کی نیاز دینے سے۔ اگر یہ بھی نہیں تو اگلے الیکشن میں ووٹ دے کر۔ اسکے علاوہ بچاؤ کی کوئی صورت نہیں۔۔
خیر جناب شامت تو آ گئی تھی مرتا کیا نہ کرتا میں کافی دیر تک ان صاحب کے خیالات و فضائل مولانا سے مستفید ہوتا رہا اور انکے حضور چند اعتراضات کی گستاخی بھی فرمائی جن کا وہ تقریبا دو گھنٹوں "مدلل" جواب دیتے رہے یا یوں کہہ لیں کہ گتھم گتھا ہوئے رہے۔ انکے مسلسل دو گھنٹے کی تقریر سے میں جو کچھ سمجھ سکا وہ پیش خدمت ہے۔ پڑھیے اور سر دھنیے۔
           مولانا بہت بڑے عالم دین ہیں اور  وہ اپنے سینے میں قران و حدیث کے علم کا بیش قیمت خزانہ سموئے ہوئے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں انکے سینے میں علم ٹھاٹیں مار رہا ہے (اب شائد وہ سمندر پیٹ کی طرف نکل گیا ہے)۔۔ اسلئے اتنی معزز ، نیک اور اور صاحب علم  شخصیت پر کسی قسم کا الزام اور اعتراض درست نہیں۔ بصورت دیگر  آپ پر عذاب نازل ہونے کا خدشہ ہے اور آپکا مسلمان ہونا بھی مشکوک ہو جاتا ہے۔۔۔
مولانا کو مولانا ڈیزل کہنا درست نہیں ۔اور یہ مولانا کی شان  میں ایک عظیم گستاخی ہے اسکے علاوہ آپ اتنی معزز ہستی پر بغیر کسی ثبوت کے الزام نہیں لگا سکتے۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ جھوٹی تہمت لگانے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔اسلئے جو کوئی بھی مولانا کو ڈیزل کہتا ہے اسے چاہیے کہ دستاویزی ثبوت ہر وقت آپکے سامنے رکھے بصورت دیگر اس گستاخی کے نتیجے میں الزام لگانے والے کا اسلام خطرے میں ہے۔۔
مولانا چونکہ بہت بڑے عالم دین اورپرہیزگار آدمی ہیں اسلئے انکا پارلیمنٹ میں ہونا نہایت ضروری ہے۔ تاکہ قوم کے گناہوں کا کفارہ بھی ہوتا رہے اور نفاذ اسلام کے لئے عملی کوششیں بھی۔ مولانا یہ فریضہ اپنی بوڑھی ہڈیوں کے باوجود پوری تندہی سے ہر حکومت میں وزارتیں حاصل  کر کے  انجام دے رہے ہیں۔ در حقیقت یہ اسلام اور مسلم امہ کی بہت بڑی خدمت ہے۔۔
اسکے ساتھ ساتھ مولانا ایسے بزرگ کا پارلیمنٹ میں ہونا اسلئے بھی ضروری ہے کہ وہ کسی بھی ایسے قانون کو پاس ہونے سے روکیں جو خلاف شرع ہو ۔ اور قانون میں جتنی بھی اسلامی شقیں ہیں وہ بھی مولانا کی شبانہ روز محنت کا نتیجہ ہیں۔اور وہ یہ بار عظیم بھی تن تنہا اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اور خلاف شرع قانون کے سامنے وہ سیسہ پلائی دیوار ہیں (اور یہ دیوار وزارتوں کی سیڑھی لگا کر عبور کی جا سکتی ہے  J )۔۔۔
باتوں باتوں میں جمہوریت اور خلافت کا ذکر آگیا۔ اور شومئی قسمت کہ ہم نے اوریا مقبول جان کی کسی بات کا حوالہ دے دیا ۔ بس جی ایک بار پھر ان صاحب کا ہارہ آسمان تک پہنچ گیا اور فرمانے لگے یہ بندہ ساری زندگی جمہوری نظام سے تنخواہ لیتا رہا اب کس منہ سے جمہوریت کے خلاف بات کرتا ہے اور ایک فتوی بھی صادر فرما دیا کہ چونکہ یہ بندہ جمہوریت سے تنخواہ لیتا رہا اور اب اگر یہ اسکے خلاف بات کرتا ہے تو پوری مسلم قوم کا مجرم ہے۔ یہاں ہم  نے پھر گستاخی فرما دی کہ حضرت آپ بھی تو خلافت کی بات کر رہے ہیں لیکن آپکے محبوب مولانا بھی تو اسی جمہوری نظام کا حصہ ہیں جن کی پارلیمنٹ میں موجودگی کے آپ طرح طرح کے جواز دے رہے ہیں۔ اس طرح تو آپکے فتوے کے مطابق وہ بھی قوم کے مجرم ہوئے نا؟؟؟؟؟؟
ان صاحب نے ادھر ادھر دیکھا اور چند لمحوں کے توقف کے بعد فرمانے لگے۔ آپ ابھی نا سمجھ ہیں آپ ہمارے ساتھ کم از کم 3 دن کا چلہ لگائیں ۔ اللہ آپکا سینہ کھول دے گا اور وہ باتیں جو ابھی آپکی سمجھ میں نہیں آتیں وہ بھی آنے لگیں گی۔۔۔۔

جمعرات، 3 مئی، 2012

گیلانی کے سعادت مند مرید کا عدالتی فیصلہ پر احتجاج



ہمارے پیر و مرشد،ہر دلعزیز،خوش شکل،خوش لباس اور خوش خوراک(خوراک سے مراد ڈالر اورقومی خزانہ ہے) سزا ہو گئی ہے۔چاہے سزا چند سیکنڈ کی ہی تھی لیکن  مجھ جیسے کمزور دل مرید پر برق بن کے گری۔پاکستان سپریم کورٹ کو مرشد کے لاکھوں، کروڑوں مریدوں  (میرا خیال ہے میں مبالغہ کر رہا ہوں) کے جذبات  کا خیال رکھنا چاہئے تھا اور ہمارے حق گو اور حد درجہ قانون پسند، ماہر قانون دان اعتزاز احسن کا بھی زور اسی بات پر تھاکہ گیلانی صاحب گدی نشین بزرگ ہیں اسلئے سپریم کورٹ کو چاہئے کہ  وہ مرشد کو سزا نہ دے اورانکی بدعا اور کروڑوں مریدوں (اف پھر مبالغہ) کے غضب سے بچیں  لیکن عدالت  چونکہ دشمنوں سے  ملی   ہوئی ہےاسلئے  عدالت نے پیر سائیں اور وڈے مرید صاب   یعنی اعتزاز احسن صاحب۔ سچ پوچھیں تو انہوں نے مریدی کا حق ادا کر دیا  اور ہم جیسے کمزور مرید صرف دعائیں ہی کرتے رہ گئے

سپریم کورٹ کو اگر سزا دینی ہی تھی تو مرشد کی  مرضی کی تو دیتے لیکن عدا لت  تو دشمنوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے اسلئے سزا بھی انکی مرضی کی نہیں ملی ۔ کیا برا تھا اگر مرشد چار دن مفت روٹی کھا لیتے چند ماہ کی مفت روٹی سے پاکستان نے دیوالیہ تو نہیں ہو جانا تھا۔ پاکستان تو مرشد کی بے حد کوششوں کے باوجود بھی دیوالیہ نہیں ہوا  چند ماہ  کی دال روٹی کیا حیثت  رکھتی ہے(ارے کہیں میں گستاخی تو نہیں کر گیا؟) اس کے ساتھ ساتھ چونکہ مرشد اللہ لوگ پیر ہیں اور شہادت کے خواہشمند بھی ۔ اگر عدا لت انکی مرضی کی سزا سنا دیتی تو  عدالت کا کام بھی پورا ہو جاتا  اور مرشد کی دیرینہ خواہش بھی۔مرشد کی شدید   خواہش تھی کہ انکے نام کے ساتھ شہید کا   دم  چھلا (اوہ  معاف کیجئے گا ) بلکہ شہید جیسا  مقدس لاحقہ لگ جائے لیکن  عدالت تو دشمنوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے
ہاں جی تو میں مفت روٹیوں کی بات کر رہا  تھا۔ ہمارے مرشد درویش صفت آدمی ہیں  اور قناعت پسندی اور سادگی  ان میں کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے اسلئے جو مزا  انہیں جیل اور مریدوں کی بوٹیاں ،  اوہو بلکہ روٹیاں کھانے میں آتا ہے وہ فائیو سٹار ہوٹلوں کے کھانوں میں بھی نہیں آتااسلئے وہ اخیر عمر(اللہ کرے اخیر ہی ہو) بلکہ حکومت کے آخری سال  وہ  سادگی اور قناعت سے  گزارنا چاہتے  تھے اور جیل  میں اکیلے اللہ اللہ کرنا چاہتے تھے اسلئے وہ اپنے سارے سیاسی ٹرکس اپنے بیٹوں میں منتقل کر رہے ہیں لیکن عدالت تو دشمن  بنی ہوئی ہے اب ان کے بیٹوں  کو بھی عدالت میں گھسیٹنا چاہتی ہے
اور یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ ووطن عزیز میں مہنگائی بہت ہو چکی ہے اور جو بلا شبہ آمریت کا تحفہ ہے مرشد اپنے مریدوں سے بیت محبت کرتے ہیں اور کسی  بھی  تحفے کی بے قدری نہیں کرتے اسلئے انہوں نے  مشرف کے اس تحفے کو بھی سینے سے لگایا  اور پا ل پوس کر بڑا کر دیا اب یہ تحفہ انکے لئے بھی وبال جان بن گیا ہے اورہمارے سفید  پوش(آپ انکے کوٹوں پر نہ  جائیں) آدمی ہیں اور   انہیں دو وقت کی روٹی بھی میسر نہیں (اصل میں مرشد اپنے آپ کو ابھی بھی جوان سمجھتے ہیں اور  فاسٹ فوڈ کے زیادہ  شوقین ہیں)اسلئے انہیں زیادہ نہیں تو اگلے الیکشن تک مفت  روٹیاں ملنی چاہئیں الیکشن کے بعد  وہ اپنی   اصل کٹیا یعنی لندن سدھار جائیں گے اور وہاں انکے بڑے پیر صاحب انکی خدمات کے عوض  انکے نان نفقے کا انتظام کریں گے اسلئے عدالت کو چاہئے  تھا کہ وہ مرشد کو انکی مرضی کا فیصلہ سناتی لیکن عدالت تو دشمن بنی ہوئی  ہے اور مرشد کے  خلاف سازشوں میں مصروف ہے

عدالت نے مرشد کی تو سنی نئیں اسلئے ہم مرید عدالت سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ ایسی مضحکہ خیز سزا واپس لے یہ تو مرشد کی توہین ہے کہ وہ اتنے بڑے پیر اور سزا صرف بتیس سیکنڈ۔اور چنکہ مرشد  اور ہم عدا لت کا احترام کرتے ہیں اور آئین سے غداری نہیں کر سکتے اور اس کے لئے  مرشد کو پھانسی پر چڑھنا بھی قبول ہے اور ویسے بھی مرشد شہادت پانے کے خواہشمند ہیں  تاکہ وہ دنیا و آخرت میں  سرخرو ہوں۔  اس لئے ہم مریدوں کی عدا لت  سے درخواست ہے کہ اب اپیل کے دوران مرشد کی دیرینہ خواہش کا احترام کیا جائے اور انہیں اصلی شہادت کے درجہ  عالیہ پر فائز کیا جائےتاکہ مرشد کی روح کو بھی سکون ہو اور ہم مرید بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔