‏اے وطن پیارے وطن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اے وطن پیارے وطن لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

منگل، 27 مئی، 2014

پاکستانی اداروں کا مختصر تعارف

ہماری آج کی پوسٹ میں پیش خدمت ہے وطن عزیز کے چند اہم اداروں کا مختصر تعارف۔ ہم ان اداروں کے نام اور کام پر مختصراً روشنی ڈالیں گے۔ ہماری یہ تحریر ان لوگوں کے لئے ہے  جو پاکستانی اداروں سے زیادہ واقف نہیں۔  چلئے وقت ضائع کئے بغیر ہم ان اداروں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
:نیب
یوں تو یہ محکمہ انسداد بدعنوانی کے نام سے جانا جاتا ہے لیکن اس محکمے کی گراں قدر خدمات پر یار لوگ اسکومحکمہ امداد بدعنوانی سے یاد کرتے ہیں۔ اس محکمے کا کام کرپشن کے ثبوت مٹانا ہے۔ یہ محکمہ بڑے پیمانے پر کرپشن کے مواقع فراہم کرتا ہے اور جو اس سے فائدہ نہ اٹھا سکے اور چھوٹی کرپشن تک محدود رہے اسکو سزا دیتا ہے تاکہ وہ آئیندہ یہ حرکت نا کرے اور کرپشن کرنے والوں کی تعداد  میں قرار واقع کمی ہو سکے۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس محکمے کا مشن معاشرے سے کرپٹ افراد کو کم کرنا کیونکہ کرپشن اور کرپٹ افراد ایک دوسرے کے راست تناسب ہوتے ہیں۔

:ٹیکس
 اس ادارے کا کام لوگوں سے ٹیکس کی وصولی ہے لیکن وطن عزیز کے مخدوش حالات کے پیش نظر یہ ادارہ لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے کہ وہ کس طرح کم پیسوں میں زیادہ ٹیکس سے بچ سکتے ہیں۔ یہ ادارہ پوری تندہی سے اپنے کام میں سر گرم عمل ہے۔ اب تک یہ محکمہ ملک کے کئی مستحق اور نادار لوگوں کو بڑے پیمانے  پر ریلیف مہیا کر چکا ہے۔ اس ادارے کا مشن ٹیکس فری سوسائٹی کا قیام ہے۔

:کسٹم
یہ محکمہ بھی لوگوں کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر ریلیف مہیا کر رہا ہے۔ اس ادارے کے ملازمین کسٹم کی ذمہ داریاں سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم قصائی کا کام بھی کرتے ہیں اور خدمت خلق کے جذبے سے سرشار مفت میں کھال اتارنے کا کام بڑی تندہی سے کرتے ہیں۔ جو کہ مہنگائی کے اس دور میں بہت بڑی خدمت ہے۔

:واپڈا
اس محکمے کا کام لوگوں کو بروقت بلوں کی ترسیل کرنا ہے اور انہیں لوڈشیڈنگ کے دورانیے اور لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کی تواریخ کے بارے میں تازہ ترین معلومات فراہم کرنا ہے۔ نیز یہ محکمہ ہر صوبے میں بجلی کے تاروں میں پڑنے والے کنڈوں کی تعداد اور تفصیل بحساب حلقہ بھی بتاتا ہے۔ اگر آپ گھریلو اور کمرشل استعمال کیلئے کوئی پیکج چاہتے ہیں تو وہ بھی محکمہ آپکو مہیا کرتا ہے۔ گھریلو استعمال کیلئے آپ میٹر ریڈر اور لائن مین سے رابطہ کر اس سے چائے کے کھوکھے پر میٹنگ کر سکتے ہیں اور کمرشل کیلئے آپ کسی اچھے ہوٹل میں کسی آفیسر سے میٹنگ کر کے پیکج لے سکتے ہیں۔

:پی آئی اے
 باکمال لوگ لاجواب سروس۔ یہ سروس واقعی لاجواب ہے اور اسکو چلانے والے اس سے بڑھ کر باکمال جو انتہائی نامساعد حالات کو باوجود اسکو بند نہیں ہونے دے رہے یہ محکمہ صحیح معنوں میں انسان دوست واقعی ہوا ہے اگر آپ بے روزگار ہیں اور زیادہ پڑھے لکھے بھی نہیں تو یہ محکمہ آپکو اپنی آغوش میں لے لے گا آپ صرف میٹرک کر کے پائلٹ بھی بھرتی ہو سکتے ہیں اور اگر آپکی قسمت تھوڑی سی اچھی ہو تو ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر بھی لگ سکتے ہیں۔ یہ محکمہ دنیا بھر کے گراؤنڈ طیارے خرید کر استعمال میں لاتا ہے جس نئے طیارے کے پیسے بچ جاتے ہیں۔ اس کفایت شعاری کی وجہ سے خزانے پر زیادہ بوجھ نہیں پڑتا۔

:ریلوے
یہ محکمہ بھی ایک سابق درویش صفت وزیر کی وجہ سے درویشانہ روش اختیار کر چکا ہے۔ اسکے اثاثے لوگ مفت میں استعمال کر رہے ہیں لیکن یہ چندہ اور خیرات پر ہی اپنا گزارہ کر رہا ہے۔ یہ لوگوں کو کم پیسوں میں محفوظ چھت مہیا کرتا ہے اگر آپکو کرایہ نہ دینے یا کسی اور وجہ سے مالک مکان اپنے گھر سے نکال چکا ہے تو آپ اپنا سامان لیکر اسٹیشن پر کھڑے کسی ڈبے میں بسیرا کر سکتے ہیں اور اگر آپ سیرو سیاحت کے شوقین بھی ہیں تو ایک ٹکٹ خرید لیں چند سو کلو میٹر تو آپ مہینہ بھر میں پھر ہی لیں گے یوں آپکا کرایہ بھی بچ جائے گا رہنے کی جگہ بھی اور لگے ہاتھوں سیر بھی۔

:پاسپورٹ
یہ محکمہ صحیح معنوں میں آپکے دل میں وطن سے محبت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ باہر جانے کی خواہش لئے پاسپورٹ بنوانے جاتے ہیں تو وہاں درپیش حالت دیکھ کر آپکی باہر جانے کی خواہش دم توڑنے لگتی ہے لیکن اگر آپ ضرورت سے زیادہ ڈھیٹ ثابت ہوئے ہیں تو آپکا کوئی علاج نہیں۔ اسلئے اپنا ملک چھوڑنے کی سزا کے طور پر آپکی اعلیٰ قسم کی ورزش کرائی جاتی ہے لیکن اگر آپ لمبی لمبی لائنوں میں نہیں لگ سکتے تو آپ کسی خدائی فوجدار کو پکڑ کر اسے تھوڑا سا نذرانہ دیں تو آپکا کام تھوڑی ہی دیر میں ہو سکتا ہے لیکن ساتھ میں آپکو لائن میں لگے افراد کی گالیاں بھی سننا پڑیں گی۔ لیکن انکی فکر آپ مت کریں ڈھیٹ پن کا مظاہرہ تو آپ پہلے ہی کر چکے ہیں تھوڑا سا اور سہی۔

:رویت ہلال
یہ محکمہ چاند دیکھنے کا کام کرتا ہے اور سال میں ایک بار چاند چڑھاتا بھی ہے۔ اس محکمے اور خیبر پختونخواہ کے پٹھانوںمیں اٹ کتے کا ویر ہے ۔ اس محکمے میں چاند دیکھنے پر ایسے دوراندیش افراد کو مامور کیا جاتا ہے جو اپنے سامنے پڑی وی چپل بھی نہیں دیکھ پاتے۔ انکی قریب کی نظر عام طور پر کام نہیں کرتی لیکن دور اندیشی کے وصف کی بنا پر یہ لوگ اس محکمے میں کام کر رہے ہیں کیونکہ اس محکمے کا سب سے اہم کام یعنی چاند چڑھانا دور اندیشی کے بنا ممکن نہیں۔ 

منگل، 14 اگست، 2012

مجرم میں ہوں


پاکستان بنے ہوئے 65 برس بیت گئے۔ آج جب میں خود سے سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ وہی پاکستان ہے جو 65 سال پہلے بنایا گیا تھا؟ جواب میں دل سے ایک درد بھری آہ نکلتی ہے کہ وہ پاکستان اب رہا  ہی کہاں۔ اسکی شکل ، ہیئت اور جغرافیہ تک بدل گیا ہے۔ محبتوں کی گرمی کی جگہ نفرت کی آگ نے لے لی ہے 65 سال پہلے والا جذبہ اب کہیں نظر نہیں آتا۔ اس پر ہماری نا اہلی کی انتہا یہ پاکستان اپنی تخلیق کے صرف 21 برس بعد دولخت ہو گیا۔

میں کبھی کبھی خود سے یہ سوال بھی کرتا ہوں کہ کیا میں آزاد ہوں؟؟ صد افسوس کہ ہر بار  میرا جواب نفی میں ہوتا  ہے۔ میں نے آزاد ملک تو حاصل کر لیا جہاں مین آزادی سے رہنے کے خواب دیکھتا تھا جس کے لئے  مجھے آگ و خون کا سمندر عبور کرنا پڑا۔ لیکن سب خواب چکنا چور ہو گئے۔  میری جان اور مال آج بھی  جاگیرداروں ، وڈیروں اور سرداروں کے قبضے میں ہےاور میرا مذہب، میرا دین اور ایمان  مولوی کے قبضے میں۔ جاگیردار جب چاہتا ہے مجھے جان اور مال کے خوف میں مبتلا کر دیتا ہے اور میرا مولوی جب چاہتا ہے میرے ایمان کو سولی پہ لٹکا دیتا ہے۔

کچھ  دانشور  مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تم آزاد ہو۔ میں پھر یہ سوال کرتا  ہوں کہ یہ کیسی آزادی ہے؟؟؟  میں آج بھی انگریز سامراج کا غلام، میں آج بھی بنیے کی مکاری کا شکار،میں آج بھی یہودی ساہوکاروں کہ پنجے  میں پڑا سسک رہا ہوں۔ یہ کیسی آزادی ہے؟؟؟ میں آج بھی اپنے پرانے آقا کے غلامی کے پنجے سے نہیں نکل پایا۔ میں اپنے اس آقا کی جنگ کا ایندھن بن رہا ہوں۔ میں اس جنگ میں لا تعداد شہری اور فوجی شہید کروا چکا ہوں اور کروا رہا ہوں اس جنگ میں میری معیشت کا بھٹہ بھی  بیٹھ گیا ہے اور میں اپنی ڈوبتی معیشت بچانے کے لئے پھر سے عالمی ساہوکاروں کی طرف ترسی ہوئی نگاہ سے دیکھ رہا ہوں۔ دوسرے کی جنگ اب میرے گھر میں داخل ہو چکی ہے اپنے ظالم آقا کی مدد کا خمیازہ میں اب بھگت رہا ہوں۔ میرا اپنا گھر جل رہا ہے۔

میں جب اپنی قوم، اپنے ہم وطن اور ہم مذہب لوگوں کی جانب دیکھتا ہوں  تو انہیں آپس میں دست و گریباں پاتا ہوں۔ اسی آپس کی لڑائی میں میں نے اپنا آدھا ملک گنوا دیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ میں اس ذلت آمیز شکست  سے سبق سیکھتالیکن میں نے تو اس شکست کے بعد خود کو مزید ٹکڑوں میں بانٹ لیا۔ اب میں اور میرے ہم وطن آپس میں الجھے ہوئے ہیں ۔ کوئی دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ اور کوئی بریلوی ہے تو کوئی اہلحدیث لیکن مسلمان کوئی نہیں۔ وطن عزیز میں پنجابی، سندھی، بلوچی، پٹھان اور مہاجر تو بستے ہیں لیکن پاکستانی کوئی نہیں ملتا۔ کوئی ایک ساتھ متحد ہو کر رہنا نہیں چاہتا۔ کسی کو آزاد بلوچستان چاہیے، کسی کو سندھو دیش اور کسی کو جناح پور۔ کوئی سندھ کارڈ استعمال کرتا ہے تو کوئی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگاتا ہے۔ اگر نعرہ نہیں لگتا تو پاکستان اور اسلام کا نہیں لگتا۔

اپنے سیاسی اور مذہبی رہنما اب مجھے اپنے دشمن لگنے لگے ہیں جن کا مطمع نظر صرف ذاتی مفاد ، دولت اور عیاشی ہے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ میں جی رہا ہوں یا مر رہا ہوں۔ انہی  کی برکات سے آج میرا چولہا بجھ گیا ہے۔ مجھے کھانے کے لئے بھی کچھ میسر نہیں ۔ میں آج اپنے بوڑھے ماں باپ اور بچوں کا علاج کرانے سے قاصر ہوں۔ میں آج اپنے بچوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوں۔ سال کے بارہ مہینے مجھ پر ایک عزاب کی مانند گزرتے ہیں۔گرمی ہو تو گرمی سے بے حال اور سردی ہو تو سردی کے قہر کا شکار۔ گرمی میں مجھے ٹھنڈی ہوا میسر نہیں ہوتی اور سردی میں میں گرم لحاف سے محروم ہوتا ہوں۔

لیکن۔۔۔۔

میں جب اپنی اس حالت کی وجہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں  اور دوسروں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرتا ہوں تو ایک بھیانک حقیقت مجھ  پر آشکار ہوتی ہے۔ مجھے اپنی خامیاں اور برائیاں نظر آنے لگتی ہیں مجھے لگتا ہے کہ میرا  مجرم کوئی اور نہیں  میں خود ہوں۔میں ملاوٹ بھی کرتا ہوں، میں ذخیرہ اندوزی بھی کرتا ہوں، اپنے کاروبار یا دوسرے کاموں  میں میں جھوٹ کا سہارا بھی لیتا ہوں۔ میں بجلی اور گیس بھی چوری کرتا ہوں۔ موقعہ ملنے پر دوسروں کو دھوکہ بھی دیتا ہوں ۔   میں رشوت بھی دیتا  ہوں اور رشوت لیتا بھی ہوں۔ میں میرٹ کی بجائے سفارش اور رشوت کو ترجیح دیتا ہوں۔ ہر وہ برائی جو سیاستدانوں اور حکمرانوں میں ہے وہ مجھے خود میں بھی نظر آتی ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ میں نوحے کرنے کے ساتھ ساتھ اس گندے اور کرپٹ نظام سے فائدہ بھی اٹھاتا ہوں۔ اگر میں اس نظام اور سے تنگ ہوں تو میں اپنا کام نکلوانے کے لئے کلرک یا افسر کو  رشوت کیوں دیتا ہوں؟   میں اگر اپنے مذہبی رہنماؤں سے نالاں ہوں تو انکے کہنے پر دوسرے مسلک اور فرقے کے لوگوں کو بلا جھجھک کافر کا خطاب کیوں دے ڈالتا ہوں؟ میں اگر سیاستدانوں سے نفرت کرتا ہوں تو تو ہر الیکشن میں انہی کو ووٹ دے کر انکو منتخب کیوں کرتا ہوں؟

اور سچ یہ ہے کہ میں خود اپنا  مجرم ہوں ۔ اپنے دیس اور اپنے مذہب کا مجرم۔جی ہاں میں مجرم ہوں۔۔۔۔۔۔