آپ بیتی جگ بیتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
آپ بیتی جگ بیتی لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

پیر، 13 اپریل، 2015

یونیورسٹی میں جشنِ بہاراں کا انعقاد۔ (Spring Festival)

چند روز قبل ایک مہربان کا پیغام موصول ہوا۔ان مہربان کو ہم نے ذمہ داری سونپی ہوئی ہے کہ یونیورسٹی میں کوئی بھی اہم ایکٹیویٹی ہو اس سے ہمیں مطلع کر دیا جائے۔اگر آپ اس اہم ایکٹیویٹی سے مراد کوئی کوئز یا اسائنمنٹ سمجھے ہیں تو فوراً کانوں کو ہاتھ لگائیے اور استغفار کیجئے  کہ آپ ہم سے ایسی توقع رکھتے ہیں ۔اس اہم ایکٹیویٹی سے مراد کوئی فیسٹیول ، فنکشن یا آوارہ گردی پروگرام وغیرہ ہے۔ اس بار ہمیں جو سندیس ملا وہ یہ تھا کہ  یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی کے زیر اہتمام سپرنگ فیسٹیول کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ اس خبر کوسن کر ہمیں حیرانی بھی ہوئی کہ چونکہ فیسٹیول  لٹریری سوسائٹی منعقد کرا رہی ہے اسلئے شائد کچھ ادب آداب کا اہتمام بھی ہو لیکن ہماری حیرانی رفع کرنے کا انتظام فیسٹیول کے منتظمین پہلے ہی کر چکے تھے ۔ ہماری خواہش تو یہ تھی کہ جشن بہاراں کے ساتھ ساتھ ایک عددچھوٹا سا مشاعرہ بھی رکھ لیا جاتا تو ہم بھی اپنی تازہ اور سڑی ہوئی شاعری سنا کر یونیورسٹی میں مشہور ہو جاتے  شائد اسی بہانے کوئی ایک آدھ لڑکی ہم سے بھی امپریس ہو جاتی اور ہم مزید ڈپریس ہونے سے بچ جاتے۔ مزید یہ کہ تازہ اور سڑی ہوئی کے کمبی نیشن سے قطعی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تازہ سے مراد یہاں تازہ ہی ہے فرنگیوں کی زبان میں جسے لیٹسٹ کہا جاتا ہے اور سڑی ہوئی سے مراد ہماری شاعری کی اور  ہماری طبیعت ہے۔

اس خبر کے ساتھ ہمیں ایک اور ہدایت نامہ ملا  کہ فیسٹول پہ  فرنگیوں کے لباس سے اجتناب کرنا ہے اور روایتی پاکستانی لباس یعنی قمیض شلوار زیب تن کرنا ہے۔ جب ہم نے اپنے کپڑے کھنگالنا شروع کئے تو ہماری سہل پسند طبیعت غیر پارلیمانی الفاظ میں ہڈ حرام طبیعت ہمارا منہ چڑا رہی تھی مطلب گندے کپڑوں کا ڈھیر۔ اس پریشانی کے حل کیلئے ہم نے اپنے دوستوں سے بیک ڈور رابطہ قائم کیا اور اپنی قدرتی مسکین شکل کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ دوست ہی کیا جو ضرورت کے وقت کام آ جائے ویسے بھی ہم اپنے ہی جیسے دوست رکھتے ہیں جو کہ ضرورت کے وقت کمر پہ لات رسید کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اس مشکل وقت میں ہم نےاپنی مدد آپ کا فیصلہ کیا اور گندے کپڑوں کے ڈھیر سےنسبتاً  کم گندے کپڑے تلاش کرنا شروع کر دئیے۔تھوڑی سی مشقت کے بعدہم اپنے لئے لباس منتخب کرنے کی کوشش میں کامیاب ہوہی گئے ۔

مقررہ دن پر ہم صبح جلدی اٹھ بھی گئے جسے دیکھ کر ہمارے روم میٹ حیران رہ گئےکیونکہ ہاسٹل کی رفاقت کے دوران کبھی انہوں نے ہمیں صبح جلدی اٹھتے نہیں دیکھا تھا۔ انکے لئے مزید حیرانی کا سامان یہ تھا کہ اس دن ہم نے غسل بھی فرما لیا  انہوں نے بے شرم ہو کر یہ پوچھ بھی لیا کہ بھائی خیر تو ہے؟ اب انہیں وجہ کیا بتاتے کہ شائد کوئی لڑکی ہم سے بھی امپریس ہو جائے اور ہم ڈپریس ہونے سے بچ جائیں۔اپنے تئیں پرنس چارلس بن کر جب ہم یونیورسٹی پہنچے تو گارڈ صاحب نے ہمیں داخلے کے مقام پر روک لیا کہ آپ کون؟
"جی خاکسار کو محمد عبداللہ دی گریٹ کہتے ہیں"  ہم نے بیک وقت عاجزی کا مظاہرہ کرتے اور اکڑتے ہوئے جواب دیا۔
"بھائی آؤٹ سائیڈرز کی اجازت نہیں ہے" محترم نے اگلا بم پھاڑا۔
"جناب مابدولت کو اس یونیورسٹی میں داخلہ لئے تین سال ہو نے والے ہیں"
"مجھے بھی یہاں جاب کرتے تین سال ہی ہوگئے ہیں میں نے کبھی آپکو نہیں دیکھا"
"اگر آپ نے نہیں دیکھا تو اس میں ہمارا کیا قصور جائیں آپ آنکھوں کے ڈاکٹر سے رابطہ کریں" اس پر محترم نے ہمیں یوں گھورا جیسے قصائی بکرے کو گھورتا ہے اور ہم نے بھی جواب میں انہیں بکرے جیسی معصوم شکل بنا کر دکھا دی۔
قبل اسکے کہ یہ بحث طول پکڑتی ہمارے مہربان جو ہمیں گارڈ سے الجھتا دیکھ رہے تھے اندر سے تشریف لائے اور گارڈ کو ہمارے سٹوڈنٹ ہونے کی ضمانت دی اور ہمیں سٹوڈنٹ کارڈ دکھانے کی ہدایت کی جو کہ خوش قسمتی سے اس وقت ہمارے پاس موجود تھا۔ تب ہمیں اندر جانے کی اجازت ملی  لیکن داخلے کی اجازت دینے کے باوجود گارڈ صاحب کی آنکھوں میں بے یقینی کے سائے  لہرا رہے تھے ۔

اندر داخل ہوئے تو یہاں تو ہر چیزہی نرالی تھی ہر طرف رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ سامنے سٹیج پر ولید ملک صاحب جو کہ فیسٹیول کے منتظمین میں سے تھے مائیک پہ اپنا گلا پھاڑ رہے تھے جس میں سیاستدانوں کے بجلی دینے کے وعدوں بلکہ لاروں کی طرح  سٹوڈنٹس کو بتا رہے تھے کہ کہیں نہ جائیں ابھی یہاں ایک  سیلیبرٹی (Celebrity) کی پرفارمنس ہوگی۔ یہ دلاسہ دینے کے بعد وہ  ایک لوکل گلوکار مطلب یونیورسٹی کے ایک سٹوڈنٹ کے ہاتھ میں مائیک تھما گئے تاکہ وہ اپنی آواز کا جادو جگاتے رہیں لیکن جادو اتنا زودِ اثر تھا کہ وہاں آئے ہوئے بھی بھاگنے کی تیاری میں نظر آئے۔ تھوڑی دیر بعد جب سب مایوس ہو چلے تھے تو دوبارہ تشریف لائے اور ایک بار پھر دلاسہ دیا کہ بس ابھی آئے اور تقریب کے سپانسرز کی طرف سے انعامات کا اعلان کرنے لگے جو جنسی تفریق کا شاندار نمونہ تھے مطلب سارے انعامات صرف لڑکیوں کیلئے تھے۔

اردگرد کا سرسری جائزہ لینے کے بعد ہم سب سے پہلے بورجان کے سٹال کی طرف بڑھے جہاں مفت ممبر شپ لینے کی سہولت موجود تھی۔یہ تو ممکن ہی نہیں کہ مفت خوری کا موقع ہو اور ہم اس سے فائدہ نہ اٹھائیں اسلئے ہم نے بھی ڈسکاؤنٹ حاصل کرنے کیلئے ممبرشپ کارڈ لے لیا۔ اسکے بعد ہم نے ایک ایک کر کے سٹال دیکھنا شروع کئے۔ شروع میں کھانے پینے  کی اشیاء کے سٹال تھے ۔جن کی طرف ہم للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھتے رہے اور ذہن میں ان لوگوں کی لسٹ بنانے لگے جو ہمیں کچھ کھلا پلا سکیں۔ چونکہ ہم ناشتہ کر کے آئے تھے اسلئے ہم مزید کھانے کی عیاشی کیلئے پیسے خرچ کرنے پر تیار نہیں تھے اور عادت کے مطابق مفت خوری کی کوشش کرنا ہمارا فرض تھا۔ تھوڑا سا آگے ایک سٹال پر خواتین کے بناؤ سنگھار کا سامان موجود تھا لیکن ہمیں یہ دیکھ کر شدید  حیرانی ہوئی کہ وہ تقریباً  ویران ہی پڑا تھا۔مزید آگے ایک سٹال پر سیلفی بخار اپنے جوبن پر تھا  وہاں رش دیکھ کر سمجھ آئی کہ پچھلا سٹال ویران کیوں پڑا ہے۔یہاں تھوڑی سی جدت لانے کی کوشش کی گئی تھی اپنی اصل خوفناک شکل کے اوپر مزید خوفناک ماسک چڑھا کر تصویریں بنائی جا رہی تھیں اور ساتھ ہی مہندی لگانے کا انتظام بھی موجود تھا۔

مزید آگے بڑھے تو علی مامون بھائی کو کاندھے پے ائرگن اور سر پہ ہیٹ جمائے ہوئے کاؤ بوائے بنے دیکھا۔ اور وہ سامنے ایک بڑے سے ڈبے پر غبارے باندھے دعوت نشانہ بازی دے رہے تھے۔ ہمیں خیال آیا کہ کہیں انہوں نے بھی پٹھانوں کی طرح   بندوق کی نال کو ہلکا سا ٹیڑھا نہ کیا ہو لیکن جب سامنے صرف غبارے نظر آئے تو ہمیں اپنا خیال بدلنا پڑا  کیونکہ وہاں پر زیبِ نشانہ بازی اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے ٹیپ ریکارڈر، ٹارچ، ریڈیو وغیرہ جیسی کوئی چیز نہیں تھی۔ انہوں نے ہمیں بھی نشانہ بازی کی دعوت دی اور ہم اپنی خراب نشانہ بازی کا عملی مظاہرہ کرنے سے کترا گئے۔لیکن جب دل کڑا کر کے قریب پہنچ کے بندوق کا جائزہ لیا تو پتا چلا کہ علی بھائی بھی ڈنڈی مارنے سے باز نہیں آئے تو انہوں نے نشانہ لینے کیلئے بندوق کی شست (Sight) ہی غائب کردی تھی اور ہم نے اسی بات کو بہانہ بنا کر بندوق انہیں واپس تھما دی کہ ہم خراب بندوق پر نشانہ بازی کر کے اپنا نشانہ خراب نہیں کر سکتے۔

نشانہ بازی کے ساتھ ہی وہاں موجود ایک غیر قانونی جیل وطنِ عجیب میں قانون کی حالت زار کا پتا دے رہی تھی۔ کوئی بھی طاقتور کسی کمزور کو اٹھا کے اس جیل میں ڈال دیتا اور پھر نذرانہ ادا کر کے ہی رہائی ملتی۔ ہمارے ایک دوست نے بھی ہم سے کوئی پراناا بدلہ چکانے کیلئے ہمیں وہاں ڈالنے کی کوشش کی لیکن ہم نے انہیں پہلے ہی بتا دیا کہ ہم اپنی جیب خالی کر کے آئے ہیں اسلئے بعد میں زر ضمانت بھی انہیں ہی ادا کرنا پڑے گا۔ بس ہماری یہی بات ہمیں بچا گئی اور ہمارا ریکارڈ خراب ہونے سے بچ گیا۔وہاں سے جان چھڑائی تو ہمارے ایک دوست نے ہمیں کہا کہ بھائی آ ہی گئے ہو تو منہ دھلوا لو یہاں منہ دھلوانے کا انتظام بھی موجود ہےکب تک گندے پھرتے رہو گے۔ ہمارا تو منہ دھلوانے کا قطعاً کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن ان کے اصرار پر ہم اس طرف چلے گئے وہاں پہنچ کر پتا چلا کہ ہم جیسے لوگوں کا منہ با عزت طریقے سے نہیں بلکہ بے عزت طریقے سے دھلوایا جا رہا ہے۔ ٹینٹ میں ایک سوراخ کر کے  وہاں منہ دھلوانے والے کا منہ رکھا جاتا اورپھر  کچھ لڑکے اس  پر  پانی پھینکتے۔ یہ دیکھ کر ہم نے اپنے دوست سے کہا کہ بھائی ہمیں گندا رہنا تو منظور ہے پر بے عزتی نہیں۔

اس دوران ہمیں کھانے پینے کی اشیاء کی اشتہاء انگیز خوشبو بھی بے چین کر رہی تھی ۔ کوئی اور تو ہمارے ہاتھ نہیں لگا ہم نے انہی دوست کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن وہ بھی ہماری  مسکین شکل کے پیچھے چھپی ہوئی چالاکیوں سے واقف تھے۔ بڑی دیر کے بعد انہوں نے ہامی بھری اور باقی سب کچھ چھوڑ کےہمیں لڈو پیٹھیوں والے کی طرف لے جانے لگے کیونکہ وہ  پہلے ایک بار یہ لڈو کھانے کے بعد ہمارے معدے کی ہونے والی حالت سے واقف تھے۔ ہم نے بڑا زور لگایا کہ پیزا یا باربی کیو کی طرف چل پڑیں لیکن انہوں نے ہماری ایک نہ چلنے دی  اور لڈو کھلانے پر مصر رہے لیکن لڈو دیکھ کر تو ہماری وہ حالت ہو جاتی ہے جو بکرے کی چھری دیکھ کر ہوتی ہے۔

اردگرد نظر دوڑائی تو ایک سائیڈ پر ڈبل شاہ براجمان نظر آئے ۔ وہاں سب سے زیادہ رش نظر آ رہا تھا ۔ اگر محنت مشقت کئے بغیر پیسے ڈبل ہوتے ہوں تو اس سے کون کافر انکار کر سکتا ہے ۔ ڈبل شاہ کے چیلے لوگوں کو گھیر گھیر کر اپنے شاہ صاحب کے پاس لیکر آرہے تھے۔ اسی طرح  ہمیں بھی کچھ چیلوں نے گھیرلیا  اور ہم انکے ساتھ گھسٹتے ہوئے وہاں تک پہنچے۔ تب ہمیں احساس ہوا کہ کاش ہم بھی اپنی جیب خالی نہ کر کے آتے تو شائد کچھ بھلا ہمارا بھی ہو جاتا۔ خالی جیب کے ساتھ جب وہاں کا جائزہ لیا تو اپنی کنجوس ترین طبیعت کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے کیونکہ صبح سے اس وقت تک کوئی بھی اپنے پیسے ڈبل نہیں کروا سکا تھا۔ اور سننے میں آیا ہے کہ وہاں سب سے زیادہ پیسے ڈبل شاہ نے ہی کمائے۔

چونکہ تہوار جشن بہاراں کا تھا اسلئے نئی نسل کو پرانی ثقافت سے روشناس کرانے کیلئے اور ملک کے حالات کے پیش نظر مستقبل کی تیاری کیلئے بگھی اور گدھا گاڑی  کی سواری کا انتظام  بھی کیا گیا تھا۔کون جانے کہ کل کو پٹرول یا گیس ملے یا نہ ملے۔ لیکن ہمیں ایک اعتراض ضرور ہوا کہ چلو بگھی تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اتنے سارے تعلیم یافتہ گدھوں کے بیچ کسی گدھے کو لانے کی ضرورت کیا تھی بیچارہ یونہی احساس کمتری کا شکار ہوتا کہ وہ پڑھ لکھ نہیں سکااور پڑھائی نہ کر سکنے کی وجہ سے پڑھے لکھے گدھے اس پر سواری کر رہے ہیں۔ لیکن سچ پوچھیں تو ہمیں گاڑیوں پر پھرنے والے تعلیم یافتہ گدھوں کو اصلی گدھے پر سوار دیکھ کر بہت خوشی محسوس ہوئی۔


اس دوران کنسرٹ بھی چلتا رہا اور یکے بعد دیگرے منتظمین شائقین کو کسی سیلیبریٹی کی آمد کا مژدہ بھی سناتے رہے۔ بڑی سکرین پر فیفا کھلانے کا انتظام بھی موجود تھا اور ڈارٹس بھی چل رہی تھی۔  آخر کار فیسٹیول کے اختتام پر نعمان علی اپنے بینڈ یونٹ فائیو کے ساتھ تشریف لائے اور حاضرین کو اپنی پرفارمنس سے محظوظ کیا چونکہ ہمیں یہ گلوکار کچھ زیادہ پسند نہیں اسلئے ہم سب کو ناچتا گاتا چھوڑ کے واپسی کیلئے نکل پڑے۔

پیر، 13 مئی، 2013

جب ہم لیپ ٹاپ کے حقدار ٹھہرے (دوسری قسط)


24 دسمبر کی تقریب ملتوی  ہو جانے کے بعد کوئی اطلاع نہیں تھی کہ اب تقریب کب ہونی۔ ہم بھی گھر میں مزے سے چھٹیاں  بلکہ ایکسٹرا چھٹیاں گزار رہے تھے اور اس انتظار میں تھے کہ اب وزیر اعلیٰ کب ہماری طرف نظر التفات فرمائیں گے۔4 جنوری کو بعد از نماز جمعہ ہمیں سی۔آر  کا ایس ایم ایس ملا جس میں نادر شاہی حکم جاری کیا گیا تھا کہ آج انڈرٹیکنگ فارم ملنے ہیں اسلئے فوراً یونیورسٹی رپورٹ کرو اور فارم فل کر کے جمع کراؤ۔اب ہم عجیب مصیبت میں تھےکہ پہلے بتایا نہیں اب اچانک دھماکہ کر دیا۔ ہمارے پاس کوئی اڑن طشتری تو ہے نی جو اس پہ بیٹھ کہ منتر پڑھا اور10 گھنٹے کا سفر پل بھر میں طے ہو گیا۔اب لگے ہم یونیورسٹی والوں کو برا بھلا کہنے۔ دل تو گالیاں دینے کا بھی بہت کر رہا تھا لیکن جمعہ کے مبارک دن کا لحاظ کرتے ہوئے خود پر بمشکل قابو پایا۔ اب ہم جلے پاؤں کی بلی کی طرح  چکر کاٹ رہے تھے اورساتھ ساتھ  یونیورسٹی والوں کو فون ملانے کی کوشش کر رہے تھے۔ خدا خدا کر کے انہوں نے کال ریسیو کی اور ہمارا مسئلہ سننے کے بعد ہمیں تسلی دی کہ آپ بے فکر رہیں اورسوموار کی صبح ذرا جلدی آجائیں آپکو فارم مل جائیں گے۔ یہ سن کر دل کو کچھ حوصلہ ہوا اور اگلے دن لاہور کی تیاری پکڑی۔
اتوار کی رات ہم خوشی اور ڈر کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سوئے۔ خوشی کی وجہ سے تو آپ اب تک واقف ہو چکے ہوں گے اور ڈر اپنی نشئیوں والی نیندکا تھا  کہ اگر ہم الارم لگانے کے باوجود ہم اٹھ نہ پائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سے آگے کا تصور ہی ہمارے لئے روح فرسا تھا۔لیکن خیریت گزری اور ہم صبح ٹائم پر اٹھ گئے اور تیار شیار ہو کے یونیورسٹی پہنچ گئے۔
یونیورسٹی پہنچے تو پتا چلا کہ ہم جیسے اور بھی کئی انڈر ٹیکنگ فارم کے امیدوار ہیں۔ فارم لینے والوں کی تعداد تو کافی زیادہ تھی لیکن فارم دینے والا کوئی نہ تھا۔ کافی انتظار کے بعد ایک ٹیچر ہاتھ میں فارمز کا بنڈل پکڑے نمودار ہوئے اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔طلباء کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سب کو لائن میں لگنے کا حکم دیا ۔ یہاں ہم جیسے سست الوجود آدمی نے بھی پھرتی دکھائی اور لائن میں آگے لگ کے کھڑے ہو گئے تاکہ جلدی باری آئے اور ایک عذاب سے تو جان چھوٹے۔ لیکن ہماری بری قسمت کہ یہاں بھی جنسی تفریق  ہمارا رستہ روکے کھڑی تھی۔ لیڈیز فرسٹ کے عالمی اصول کے مطابق یہاں بھی پہلے لڑکیوں کو موقع دیا گیا جس پر ہمیں غصہ تو بہت آیا لیکن ہم کر ہی کیا سکتے تھے یہ سوچ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ بس ہم ترسی ہوئی نظروں سے سر کی کی طرف دیکھنے لگے۔ سر   نے بھی شائد ہماری مسکین صورت دیکھ کے ہم پہ ترس کھانے کا فیصلہ کیا اور لیڈیز فرسٹ  کے اصول کو پینڈنگ میں ڈال کے مساوات کو  اصول کو موقع دیا گیا اور یوں ہمیں بھی انڈرٹیکنگ فارم سے نوازا گیا۔
  پنجاب لاء کالج  میں تقریب کا انتظام کیا گیا تھا جہاں ہم مقررہ وقت یعنی 9 بجے تک پہنچ چکے تھے۔وہاں پہنچ کر ہم خادم اعلیٰ جو کہ اب تک ہمارے لئے ظالم اعلیٰ بن چکے تھے کا انتظار کرنے لگے ۔تھوڑی دیر بعد سٹیج سیکرٹری نے خوشخبری سنائی کہ خادم اعلیٰ یہاں آنے کے لئے روانہ ہو گئے ہیں اور بس تھوڑی ہی دیر میں پہنچتے ہی ہوں گے اور یہ تھوڑی دیر کم و بیش  دو گھنٹے بعد ہوئی۔شہباز شریف کے آنے تک سٹیج سیکرٹری ہمیں لطیفوں سے محظوظ کرتے رہے میرا مطلب شہباز شریف کے کارنامے اور تعلیم اور نوجوانوں کے لئے انکی خدمات کا ذکر کرتے رہے۔ اور گاہے بگاہے چلنے والے میوزک اور گانوں نے بھی ہمارا دل خوش کئے رکھا۔ اور کنسرٹ بپا کرنے کے لئے ایک نوجوان سنگر ندیم عباس کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جو کہ ہر جلسے میں خادم اعلیٰ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ مطلب انہوں نے اپنی روزی روٹٰی کا انتظام کر لیا ہوا ہے۔ اگر آپ ندیم عباس سے واقف نہیں تو بتاتا چلوں کہ یہ ندیم عباس وہی ہیں جو انڈیا میں ہونے والے" سُر کشیترا "میں ٹائم سے ہی باہر ہوگئے تھے۔
تقریباً دو گھنٹے کے انتظار کے بعد وزیر اعلیٰ کی تشریف آوری ہوئی  ۔ جنکا استقبال کھڑے ہو کر تالیوں  اور نعروں  سے کیا گیا اور یہاں بھی ہم نے اپنی ازلی کمینگی دکھائی اور مجال ہے کہ ایک بھی تالی بجائی ہو ۔ ایک تو ہمیں یہ صاحب ویسے بھی پسند نہیں اوپر سے طویل انتظار۔ استقبال کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ خیر خادم اعلیٰ صاحب اپنے مخصوص انداز میں بھاگے بھاگے آئے اور سٹیج پہ براجمان ہو گئے۔اور اسکے ساتھ ہی  تقریب کا باقاعدہ آغاز بھی ہو گیا۔چونکہ ہم اسلامی ملک کے شہری اور پیدائشی مسلمان واقع ہوئے ہیں اسلئے سب سے پہلے تلاوت قرآن  کریم اسکے بعد نعت رسولﷺ اور پھر چل سو چل۔ قومی ترانہ، پھر پنجاب حکومت کا ترانہ، تقریرں ،خوشامدیں اور لائیو گانے۔
اس تقریب کے دوران جو خوشامد دیکھنے کو ملی اس نے ہماری حکمرانوں اور انکے چمچوں سے نفرت کو حد درجہ بڑھا دیا۔وہاں مزید بیٹھے رہنے کا دل تو کر نہیں رہا تھا لیکن خود پر جبر کر کے بیٹھے رہے کہ بھائی صاحب چپکے بیٹھے رہو تمہارے غصے سے انکی خوشامد میں کمی نہیں آنی برداشت کرو کیونکہ لیپ ٹاپ تو انہی سے لینا ہے ۔پنجاب یونیورسٹی کی ڈیبیٹنگ سوسائٹی کے صدر نام غالباً حمزہ تارڑ  نے اپنی تقریر اور لفاظی کے فن کو جگاتے ہوئے وزیر اعلیٰ کی شان میں زمین  آسما ن ایک کر دیے۔ یوں لگتاتھا کہ جناب سے بڑا پاکستانی عوام کا خیر خواہ آج تک پیدا ہی نہیں ہوا اور نہ مستقبل میں پیدا ہونے کا امکان ہے۔ پھر وائس چانسلر صاحب کی باری آئی تو وہ بھی خوشامد میں کسی سے پیچھے نہ رہے اور وزیر اعلیٰ کی شان میں ایک لمبی جذباتی تقریر جھاڑ دی۔ یہ شائد انکی پیشہ ورانہ مجبوری بھی تھی کیونکہ وی سی بنے رہنے کے لئے سیاستدانوں کے ساتھ اچھی سلام دعا توہونی چاہیے۔ویسے بھی ہمارے وی سی صاحب کی شہرت سے تو آپ واقف ہی ہوں گے۔ اگر نہیں واقف تواگنور کریں ۔ اللہ آپکا بھلا کرے۔
سب سے آخر میں  خادم اعلیٰ کی لطیفے سنانے کی باری آئی جن پر ہم کچھ دیر تو ہنستے رہے لیکن جب جناب رکے نہیں تو وہی پرانے لطیفے سن سن کے بیزاری ہونے لگی۔وہی گھسے پٹے وعدے، کارناموں کی لمبی اور نا ختم ہونیوالی فہرست، سیاسی مخالفوں کو دھمکیاں  اور خاص طور پہ نوجوانوں کے ساتھ کے دعوے۔ اور سب سے بڑھ کر زرداری کو الٹا لٹکانے اور سڑکوں پہ گھسیٹنے کا عزم۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود خادم اعلیٰ صاحب کے باڈی ایکسپریشن اور حرکتیں کمال تھیں جن سے ہم خاصے محظوظ ہوئے۔تقریب کے دوران ہم سٹوڈنٹس کو گارڈ آف آنر بھی دیا گیا ۔جس کے بارے میں وزیر اعلیٰ صاحب کا کہنا تھا کہ اس کے اصل حقدار آپ ہیں۔   اگر اصل حقدار ہم ہیں تو آپ انہیں اپنے ساتھ کیوں لئے پھرتے ہیں۔ہیں جی۔ خیر خدا خدا کر کے وزیر اعلیٰ صاحب کی تقریر  کا اختتام ہوا ۔جس کے بعد چند طلبا ء کو وزیر اعلیٰ نے اپنے ہاتھ سے لیپ ٹاپ دئیے اور فوٹو کھنچوائے۔ اسکے بعد تقریب کا اختتام اایک گانے پر ہوا جس پر وزیر اعلیٰ نے لائیو پرفارم بھی کیا   اور عوام کو ناچنے پہ لگا کے خود گارڈز کے جلو میں فرار ہو گئے۔
 پوری تقریب نے  ہمیں بور ہی کیا لیکن پھر بھی تقریب اتنی بھی بری نہیں تھی۔ کچھ کچھ انجوائمنٹ کا سامان بھی تھا۔ مثلاً سب سے زیادہ مزہ ہمیں گارڈ آف آنر لینے کا آیا۔ وہ پولیس  جس سے ہم صرف گالیاں اور دھکے ہی کھاتے تھے آج وہ ہمیں سیلوٹ کر رہی تھی۔ پھر جناب خادم اعلیٰ کے بیان کردہ لطیفے، الٹی سیدھی حرکتیں اور بھٹو بننے کی ناکام کوششیں کرتے دیکھ کر ہمیں کافی ہنسی آئی اور ترس بھی بہت آیا۔ وزیر اعلیٰ کی تقریر کے دوران سٹیج کے سامنے بیٹھے ہوئے کچھ لڑکے عمران خان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور کچھ ہی فاصلے پر کھڑا وزیر اعلیٰ کا پروٹوکول آفیسر انہیں گھور رہا تھا ۔ لیکن اسکی گھوریوں   کے باوجود جب وہ باز نہ آئے تو اسکی بے بسی قابل دید تھی۔ سب سے مزیدار چیز تقریب میں چلنے والا میوزک تھا جس نے ہماری بوریت کو کم کرنے میں کافی مدد کی۔ مخالفین کو سیاسی کنسرٹ کے طعنے دینے والوں نے اپنی تقریب میں بھی نوجوان نسل کی تفریح طبع کے لئے فل ٹائم ڈسکو ماحول چلایا ہوا تھا جس سے ہم  خوب لطف اندوز ہوئے۔
تقریب ختم ہونے کے بعد حکم ملا کہ سب اپنے اپنے ڈیپارٹمنٹس چلیں جائیں لیپ ٹاپ وہیں ملیں گے ۔ہمارا ڈیپارٹمنٹ چونکہ علیحدہ بنا ہوا ہے اسلئے ہمیں آئی۔بی۔آئی۔ٹی ۔ جانے کا حکم ملا۔ وہاں پہنچے تو ڈیپارٹمنٹ کے دروازے یوں بند تھے جیسے  قصر شاہی میں غریب کے لئے بند ہوتے ہیں۔ حکم جاری ہوا کہ ابھی باہر بیٹھ کے انتظار کرو۔ ادھرچونکہ ہم نے صبح کا ناشتہ بھی نہیں کیا   ہوا  تھا اسلئے ہمارا  بھوک سےبرا حال اور اوپر سے انتہائی بورنگ تقریب۔ پارہ تو ہمارا  وزیر اعلیٰ  کے انتظار کے دوران ہی ہائی ہو گیا ہوا تھا اب تو یہ آسمان کو چھونے لگا ایک بار تو دل کیا کہ بھاگ لیں یہاں سے لیکن بھاگنا بھی ہمارے مفاد میں نہیں تھا۔ اسلئے مرتے کیا نا کرتے وہیں گراؤنڈ میں ڈیرے ڈال لئے۔
ڈیڑھ دو گھنٹے کے صبر آزما انتظار کے بعدہماری خوش قسمتی کا  در میرا  مطلب ڈیپارٹمنٹ کا دروازہ کھلا اور ساتھ ہی لائن میں لگنے کا حکم بونس میں۔ لیکن ہماری قسمت اچھی تھی کہ ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی لسٹ میں ہماری کلاس سب سے اوپر تھی اسلئے ہماری باری جلد ہی آگئی۔ہم نے جیب سے مڑے تڑے کاغذات نکالے اور انہیں سیدھا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لائن میں لگ گئے۔ اب ایک مرحلے پر کاغذات دکھانے کے بعد  لیپ ٹاپ بمعہ بیگ ہمارا منتظر تھا۔ خدا کا شکر کہ وہ مرحلہ بھی بخیر و عافیت طے ہو گیا اور یوں ہم ایک عدد لیپ ٹاپ کے حقدار ٹھہرے۔
لیپ ٹاپ وصولتے وقت ہمارے منہ سے بے اختیار تھیینکس ٹو عمران خان نکلا ۔ اسے وہاں بیٹھے ہوئے صاحب (غالباً کوئی ٹیچر تھے ) جن سے ہم نے لیپ ٹاپ وصولا تھا نے بھی سن لیا اور ہمیں چونک کر دیکھنے لگے۔ ایک لمحے کے لئے تو ہمارا سانس رک  سا گیا  یہ سوچ کے کہ کہیں ہم سے لیپ ٹاپ واپس نا لے لیں کہ جاؤ عمران خان سے لو ۔ لیکن خیریت گزری اور انہوں نے مسکرانے کے سوا کچھ نہ کیا  اور ہم بھی جلدی سے لیپ ٹاپ اٹھا کے باہر کو بھاگے۔باہر آکے ہم نے سر آسمان کی طرف اٹھا کے اللہ کا شکر ادا کیا اور سر نیچے کرنے کے بعد  زیر لب بولے۔
"شباژ ساب! لیپ ٹاپ تے تسی سانوں دے دتا اےپر اسی ووٹ توانوں فیر وی نی دینا۔"
(ختم شد)

جمعرات، 9 مئی، 2013

جب ہم بھی لیپ ٹاپ کے حقدار ٹھہرے (پہلی قسط)


دسمبر 2012 میں جب ہم اپنے مڈ ٹرم ایگزامز سے فارغ ہوئے ہی تھے اور  شہباز شریف سے مایوس ہو کے  دل ہی دل میں  اپنا لیپ ٹاپ خریدنے کا پختہ ارادہ بھی کر چکے تھے ۔ تب ہمیں ایک ہمدرد دوست نے مشورہ بلکہ نصیحت کی کہ تھوڑا انتظا ر کر لو شائد لیپ ٹاپ مل ہی جائے۔ لیکن ہم نے تو اتنی بڑی امید کبھی خود سے نہیں لگائی تھی یہ توسیاستدان تھے نہلے پہ دہلا یہ کہ تھے بھی شریف جن سے ہمیں اپنے انتہائی بچپن سے ہی شدید نفرت تھی۔ لیکن خیر ہم نے  عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتظار کرنا مناسب سمجھا۔
چند دن بعد دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے سٹوڈنٹس سے یہ خبریں  سننے کو ملیں کہ 14 دسمبر کو لیپ ٹاپ ملنے ہیں ۔اس خبر کو ہم نے مذاق ہی سمجھا اور جب اگلے دن ایڈمن آفس سے اس خبر کی تصدیق کی کوشش کی تو وہ جناب ہماری طرف یوں دیکھنے لگے جیسے ہم نے کوئی مزاحیہ بات کردی ہو۔پھر فرمانے لگے کہ ابھی ہمیں گورنمنٹ  کی طرف سے ایسا کوئی نوٹس نہیں ملا۔یہ سننا تھا کہ ہمارے خواب چکناچور ہو گئے اور ہم "دل کے ارماں آنسوؤں میں بہہ گئے" ٹائپ گانے اور شہباز شریف کے خلاف بیانات اور انٹرویو سن کر اپنا غم غلط کرنے کی کوششیں کرنے لگے۔
 اب حالت کچھ یوں تھی کہ ایک طرف ہوسٹل میں موجود دوسرے ڈیپارٹمنٹس کے لڑکے ہمیں ڈرائے جا رہے تھے کہ بھائی لیپ ٹاپس کے لئے رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے اپنے ڈاکیومنٹس جمع کراؤ ورنہ لیپ ٹاپ نہیں ملنا اور دوسری جانب ہمارے ڈیپارٹمنٹ کی پر اسرار خاموشی۔ آخر کار یہ خاموشی بھی ٹوٹ ہی گئی اور ہمیں بھی یہ خوشخبری سنا دی گئی کہ لیپ ٹاپ واقعی ملنے ہیں۔ یہ خوشخبری ملنے کے اگلے ہی دن  حکومت پنجاب کی طرف سے ان طلبا کی فہرست جاری ہو گئی جس میں ہمارا نام بھی موجود تھا۔ اور یوں ہمیں یونیورسٹی لائف میں پہلا خوشگوار ہواکا جھونکا نصیب ہوا۔ لیکن ہماری یہ خوشی اس وقت ماند پڑ گئی جب پتا چلا کہ شہباز شریف کی طبیعت ناساز ہے جسکی وجہ سے لیپ ٹاپس کی تقسیم 17 کو ہو گی۔ سچ پوچھیں تو زندگی میں پہلی بار انکی بیماری کا سن کر ہمیں دلی افسوس ہوا۔ اب ہم شدت سے 17 کا انتظار کرنے لگے۔ لیکن "خادم اعلیٰ" کی بیماری نے ہمیں 17 سے 24 پہ لٹکا دیا  ۔ یہ خبر سن کر ہمیں شدید غصہ آیا لیکن بے بسی کے عالم میں ہم دیواروں میں ٹکریں مارنے کے سوا کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ ہم ادھر 20 کو اپنے گھر جانے کا پروگرام بنائے بیٹھے تھے کہ ہماری اماں جان کو 2 ماہ ہو گئے ہماری صورت دیکھے ہوئے وہ بھی اب شدت سے ہمارا انتظار  فرما رہی ہوں گی۔ لیکن "خادم اعلیٰ" کی بیماری نے سارا پروگرام خراب کر دیا۔
اب ہم "خادم اعلیٰ"  کو دعائیں دیتے ہوئے 24 کا انتظار کرنے لگے کہ یا اللہ "خادم اعلیٰ"  کو 24 سے پہلے پہلے صحت عطا فرما اسکے بعد بے شک اوپر اپنے پاس ہی بلا لینا ہمیں کوئی اعتراض نی۔وزیر اعلیٰ کے حق میں ہماری آدھی دعا تو قبول ہو گئی لیکن باقی آدھی  کسی اور کے حق میں چلی گئی۔ ہم جو لاہور میں اپنا سامان باندھ کے بیٹھے ہوئے تھے کہ لیپ ٹاپ ملے اور ہم اپنے گھر کی راہ لیں اور جا کے شوخیاں ماریں کہ ہمیں بھی مفتے کا لیپ ٹاپ ملا ہے۔ لیکن ہنوز لیپ ٹاپ  دور است۔
22 دسمبر کی رات کو خبر ملی کہ بشیر احمد بلور کو دھماکے میں اڑا دیا گیا ہے۔ اس خبر کا ہم پر کوئی زیادہ اثر نہ ہوا ۔ کیونکہ انسان کو ایک دن مرنا تو ہے ہی آج نہیں تو کل۔ ہم نے بس انا للہ پڑھی اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کر کے سو گئے۔ صبح  جب 11 بجے کے قریب ہماری آنکھ کھلی تو ہمارے ایک روم میٹ جو شائد ہم سے شدید جیلس بھی تھے( کیونکہ انکا لیپ ٹاپ ابھی دور تھا)  نے مسکراتے ہوئے خبر دی کہ "خادم اعلیٰ"  نے سوگ کا اعلان کرتے ہوئے تقریب کینسل کر دی ہے۔ ہمیں خبر سے زیادہ اسکی مسکراہٹ پر غصہ آیا اور ہم نے اسے سبق سکھانے کے لئے بازو اوپر کئے لیکن کچھ کر نہ سکے ۔ کیونکہ کچھ کرنے میں زیادہ نقصان ہمارا ہی تھا۔ اور اس وقت ہمیں طالبان سےاتنی شدید نفرت محسوس ہوئی کہ  پہلے کبھی نہ ہوئی تھی ۔بھلا یہ بھی کوئی بات ہے کہ اتنی سردی میں ایک شریف آدمی کو بغیر کسی وجہ کے مار دیا۔
کر تو ہم یہاں بھی کچھ نہیں سکتے تھے اسلئےہم نے طالبان کو بد دعائیں اور شہباز شریف اور خبر سنانے والے  لڑکے کو برا بھلا کہتے ہوئے رحیم یار خان کا قصد کیا۔ ہمیں اتنا دکھ لیپ ٹاپ کے نا ملنے کا نہیں تھا جتنا اس بات کا تھا کہ ہماری چھٹیاں ضائع ہو گئیں ۔جس مقصد کےلئے ہم چھٹیوں میں بھی لاہور بیٹھے تھے وہ بھی پورا نا ہوا۔نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔ جب شام کو ہم اڈے پر پہنچے تب ہمیں  ایک بیہودہ ایس ایم ایس موصول ہوا جس میں کسی دوست نے پھلجھڑی  چھوڑی کہ لیپ ٹاپس یونیورسٹی پہنچ چکے ہیں اور سیکیورٹی  نہ ہونے کی وجہ سے انہیں رکھا نہیں جا سکتا۔ اسلئے صرف تقریب کینسل ہوئی ہے لیکن لیپ ٹاپ صبح  ڈیپارٹمنٹ سے مل جائیں گے۔اگر ہم ان سیاہ ست دانوں سے واقف نا ہوتے تو  اس ایس ایم ایس پر یقین کر لیتے۔ بھلا اگر تقریب نہیں ہونی تو لیپ ٹاپ کس لئے دینے۔ جس تشہیر نامی بلا کے لئے حکومت اتنا خرچ کر رہی ہے وہ ہی نہ ہو تو لیپ ٹاپس تو ضائع گئے نا۔یہ سوچ کر ہم نے اس ایس ایم ایس والے جوان کو  دل ہی دل میں مغلظات سنائیں اور اللہ کا نام لے کہ بس پہ چڑھ گئے۔ لیکں ایک راز کی بات بھی بتا دوں کہ اندر ہی اندر ہمارا دل بھی ہولنے  لگا تھا کہ خدایا کہیں واقعی ایسا نہ ہو جائے۔ انہونی کو ہونی میں بدلتے ہوئے کونسا دیر لگتی ہے۔ مزید اپنی دل کی تسلی کے لئے ایک اور دوست جو کہ ہماری طرح مایوس ہو کے اپنے گھر جا رہے تھےکو فون کر کے اس ایس ایم ایس کے بارے میں بتایا تووہ بھی ہماری طرح عقلمند نکلے اور ہنسنے لگے۔ انہوں نے تو اس بات پہ ہمارا  چیزا لگانے کی کوشش بھی کی کہ کیسی بات کر رہا ہے  لیکن ہم نے بروقت فون بند کر دیا اور دل کو یہ سوچ کر تسلی دی کہ اول تو ایسا ممکن ہی نہیں اور اگر ہو بھی تو میں اکیلا نہیں ہوں۔ خیر اللہ کو یاد کر تے اور آیت الکرسی کا ورد کرتے ہوئے ہم بس میں بیٹھ گئے۔
ایک دوست جو خیر سے ہمارے روم میٹ بھی تھےلیکن ہماری طرح عقلمند نہیں تھے۔ وہ بھی تقریب کینسل ہونے کی خبر سن کر اپنے گھر فیصل آباد چلے گئے تھے  انہیں بھی اس طرح کا پیغام ملا تو  وہ دوڑے دوڑے لاہور واپس پہنچے تاکہ لیپ ٹاپ بچایا جائے لیکن لیپ ٹاپ کیا بچنا تھا مفت کی خواری مقدر ٹھہری اور کرایہ الگ۔اور انہیں خواری اور لیپٹاپ نہ ملنے سے زیادہ اپنا کرایہ لگنے کا دکھ تھا۔ سارا دن ڈیپارٹمنٹ میں دھکے کھانے کے باوجود جب کسی نے منہ نا لگایا تو خالی ہاتھ واپسی فیصل آباد کی راہ لی۔ انکی خالی ہاتھ واپسی کی خبر سن کر ہماری خوشی دیدنی تھی  کیوں کہ انکو لیپ ٹاپ نہیں ملا تو  یوں ہمارا بھی بچ گیا ۔
(جاری ہے)