بکواسیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
بکواسیات لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

اتوار، 31 اگست، 2014

چوہدری صاحب

چوہدری صاحب ہماری چنڈال چوکڑی کے سب سے اہم اور خاص الخاص رکن ہیں۔ہمارے جان من تو ہیں ہی لیکن جان محفل بھی ہیں۔ (براہ مہربانی جان من سے ہمیں پشاری پٹھان نہ سمجھا جاوے)۔ انکے بغیر محفل کا تصور یوں ہے جیسے زبان کے بغیر عورت۔ محفل میں نہ ہوں تو حاضرین بوریت سے مر جائیں اگر ہوں تو انکی باتیں سن کر۔ اپنے  نام کے ساتھ جناب محترم کا لاحقہ خود ہی لگا لیتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ عزت انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے دوسروں کے سامنے  اپنی عزت تب تک کرو جب تک دوسرے لوگ نہ کرنے لگ جائیں۔بلا کے خوش مزاج ہیں ۔ اپنی بے عزتی پر بھی خفا ہونے کی بجائے خوش ہوتے ہیں ۔مشہور و معروف ہستی ہیں اور مزید شہرت کیلئے کچھ بھی کر سکتے ہیں ۔اس میدان میں میرا جی کو آئیڈئل سمجھتے ہیں۔  نا صرف آئیڈئل سمجھتے ہیں بلکہ انکی طرح انگریزی بھی بولتے ہیں۔ خوبصورت بھی ہیں اسلئے بچپن میں بوائیز سکول کے فنکشنز میں لڑکی کا رول عموماً انہیں ہی ملتا تھا۔

ذات کے ارائیں ہیں لیکن دل کے کیا ہیں یہ کوئی نہیں جانتا شائد خود بھی نہیں۔ انکے نام کا لازم و ملزوم حصہ چوہدری ہے۔ اگر انہیں  چوہدری کے بغیر مخاطب کیا جائے تو اسے گالی تصور کرتے ہیں اور ایسی بدصورت عورت کی طرح روٹھ جاتے ہیں جس کی خوبصورتی کی تعریف نہ کی گئی ہو۔ مخمصے کی بات یہ ہے کہ انکے والد صاحب کے شناختی کارڈ پر نام کے ساتھ میاں درج ہے۔ ایک بار ہم  نے ڈرتے ڈرتے پوچھ ہی لیا کہ  چوہدری صاحب آپکے والد صاحب تو اپنے  نام کے ساتھ میاں لگاتے ہیں پھر آپ چوہدری کیوں؟ فرمانے لگے"آجکل چوہدریوں کا دور ہے اسلئے۔ اور ویسے بھی ہم چوہدری ہیں ہم نے ہر کام ان سے پوچھ کے تو نہیں کرنا"۔ایک بار ایک صاحب انکے سامنے مغلوں کے عروج کا ذکر کر بیٹھے۔ ان صاحب نے مغلوں کی سلطنت اور  جاہ جلال  کا کچھ ایسا نقشہ کھینچا کہ موصوف اس سے بے حد متاثر نظر آنے لگے۔ بعد میں ہم سے مشورہ  کرتے ہوئے فرمانے لگے "کیا خیال ہے مغل نہ ہو جائیں؟"  تب ہم نے سمجھایا کہ  جناب مغلوں کا دور نکل گیا ہے آجکل مغل لوہا کوٹنے اور کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔  اسلئے آپ چوہدری پر ہی قناعت کریں  یا کچھ اور سوچیں۔کچھ عرصہ قبل جب موصوف نے ذاتی کاروبار شروع کیا تو انکے وزیٹنگ کارڈ پرانکے نام کے ساتھ جلی حروف میں میاں جگمگا رہا تھا۔ استفسار کرنے پر فرمانے لگے "بھائی آجکل میاں صاحبان کا دور ہے۔ ہمارا ایم این اے میاں، ہمارا وزیراعلیٰ میاں، ہمارا وزیراعظم میاں اور تو اور ہمارے والد صاحب اور دادا جی بھی میاں ہی ہیں تو ہمیں کیا مصیبت پڑی کہ چوہدری بنے رہیں چوہدری تو آجکل ٹکے ٹوکری ہوئے پڑے ہیں اور  بندے ڈھونڈ رہے ہیں۔"

اور لوگوں کی طرف موصوف نے بھی عشق فرمایا اور جی جان سے فرمایا ۔ عشق میں ناکام ہونے پر لوگ عموماً ڈاڑھی بڑھا لیتے ہیں لیکن  موصوف  نے  ناکامی عشق پر پیٹ  بڑھا لیا۔ کسی دور میں محبت میں بھی توحید کے قائل تھے لیکن محبت میں ناکامی کے بعد ا ب بیک وقت  چار محبتوں کے پرچارکر ہیں۔ فرماتے ہیں " جب اسلام میں بیک وقت چار شادیوں کی اجازت بلکہ تاکید فرمائی  گئی ہے تو ہم کیوں  نہ چار محبتیں کریں اب شادی کیلئے محبت کرنا تو ضروری ہے نا" ۔جب محبت میں توحید کے قائل تھے تب بے شمار حسینائیں انکی راہ میں آنکھیں بچھاتی تھیں اور اب انکو دیکھ کے گھبرا جاتی ہیں۔

بچپن ہی سے ذرا خوش خوراک واقع ہوئے ہیں۔ دن میں کم از کم پانچ بار کھانا کھاتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ دنیا کے سارے جھگڑے پیٹ کے ہیں۔اسلئے پیٹ کے معاملے میں نو کمپرومائز۔ کھانے میں مفتا  پسند کرتے ہیں اور پینے میں ہر وہ چیز جو انہیں چاند پہ پہنچانے میں مددگار ثابت ہو۔انکا قول ہے  کہ جہاں سے بھی مفت کھانے کو ملے کھا لو یہ اللہ کی دین ہوتا ہے اور اس سے انکار کفران نعمت۔ ایک بار ایک دوست کے کچھ پیسے ایک صاحب دبائے بیٹھے تھے  ۔ وہ دوست اپنے پیسے برآمد کرانے  کیلئے موصوف کو ساتھ لے گئے تاکہ کچھ رعب پڑ سکے۔ان صاحب  نے اگلا بہانہ لگانے کے ساتھ ہی چائے  کی آفر کردی اور چوہدری صاحب اپنے آنے کا مقصد فراموش کر کے چائے نوش فرمانے بیٹھ گئے۔

پرفیومز اور عطریات کے بے حد شوقین ہیں  اور اس معاملے میں شاہانہ مزاج رکھتے ہیں ۔ جو خوشبو انہیں پسند آ جائے وہ ضرور خریدیں گے چاہے دس گنا قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ پیسے کو ہاتھ کا میل سمجھتے ہیں اور کبھی صابن سے ہاتھ نہیں دھوتے۔ نہاتے اسلئے نہیں کہ کہیں باڈی سپرے نہ اتر جائے۔ کپڑے اسلئے ہفتہ بھر نہیں بدلتے کہ انکی لگائی ہوئی خوشبو ہفتہ بھر کپڑوں سے نہیں جاتی۔ بنیان پہننے کا تکلف اسلئے نہیں کرتے کہ باڈی سپرے کی خوشبو نہ روک لے۔شوقین مزاج تو ہیں ہی اسلئے ڈانس سے بھی رغبت ہے۔ پرائی شادیوں میں مفت میں ڈانس کرتے ہیں اور جاننے والوں کی شادی میں پیسے لیکر۔ ڈانس بھی ایسا غضب کا کہ نرگس بھی انکے سامنے پانی بھرتی نظر آئے ۔  کالج کے فنکشن میں ایک بار اسٹیج انکے ڈانس کی تاب نہ لاتے ہوئے ٹوٹ گیا تھا۔

لوگ تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے ہیں موصوف جماعت کو اپنے ساتھ لے کر گئے۔ پوری جماعت میں یہ اپنی نوعیت کے واحد آدمی تھے جن سے امیر صاحب  بھی کسی کام سے پہلے  اجازت طلب کرتے۔ جماعت کے ساتھ جانے سے پہلے موصوف سگریٹ کے ساتھ ساتھ جس چیز سے شغل فرماتے وہ پاکستان میں تارا (TARA) یا ہاٹ (HOT) کے نام سے ملتی ہے۔ جب دورے سے واپس آئے تو موصوف کے ہاتھ میں تارا کی بجائے پٹھانوں کی مشہور سوغات  تھی۔  اس سوغات سے آشنا ہونے کے بعد انہیں کچھ بھی پسند نہیں آتا اور موصوف ہر کام سے پہلے اللہ کا نام لینے کے ساتھ ساتھ "چونڈی" بنانا ضروری خیال کرتے ہیں۔اگر کوئی انکے ہاں مہمان آجائے تو پانی سے پہلے اس سے "چونڈی" کا پوچھتے ہیں۔  اس سوغات سے جتنی محبت انہیں ہے اتنی خود پٹھانوں کو بھی نہیں ہوگی۔ اگر کوئی ان کے سامنے چونڈی کہہ دے تو  انہیں غصہ آ جاتا ہے موصوف اسے چونڈی کہنا پٹھانوں کی اس عظیم ایجاد اور خود پٹھانوں کی توہین سمجھتے ہیں اور اس سوغات کو جنتی کشتہ اور چونڈی کو جنتی کشتے کی ڈلی کہتے ہیں۔


بے حد دوست نوازہیں۔ دوستوں کیلئے کچھ بھی کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور دوستوں کے لئے جان  بھی قربان کر سکتے ہیں۔ ایک بار کرکٹ کھیلتے ہوئے انکے ایک عزیز از جان دوست کی لڑائی ہوگئی ارد گرد کھڑے فیلڈرز میں سے کچھ تو رفو چکر ہو گئے اور کچھ مزے سے انہیں پٹتا دیکھنے لگے ۔موصوف باؤنڈری سے بھاگتے ہوئےآئے اور  اپنے دوست کو بچانے کیلئے  اس جنگ میں کود پڑے نتیجتاً دوست کو تو بچا لیا لیکن خود نہ بچ پائے۔ انکے دوست نے بھی موقع غنیمت جان کر فرار ہونے میں عافیت سمجھی اور چوہدری صاحب  سر پر پٹی اور جسم پر نیل لئے گھر پہنچے۔ وہ دن ہے اور آجکا دن موصوف اہنسا وادی ہوچکے ہیں اور  سختی سے گاندھی جی کے فلسفہ عدم تشددپر کاربند ہیں۔ 

جمعہ، 27 جون، 2014

لہور لہور اے

یوں تو لاہور شہر کی تعریف میں بہت سےمقولے اخذ کئے گئے ہیں لیکن ایک جملہ جو لاہور کی ساری خصوصیات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے وہ یہی ہے کہ "لہور لہور اے"۔ بزرگوں کے مطابق لاہور کی اس سے جامع اور مختصر تعریف ممکن ہی نہیں ہے۔  اگر آپ لاہور کو کسی سے تشبیہ دینے کی کوشش کریں گے یا اسکی مماثلت تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو آپکو احمق قرار دئیے جانے کا قوی امکان ہے۔یہ اسی طرح ہے جیسے ملکہ الزبتھ اور تندور پہ روٹیاں لگانےوالی مائی میں مماثلت تلاش کرنا۔ اسی پر بس نہیں   پطرس صاحب  لاہور کی تعریف کے ساتھ ساتھ اسکے محل وقوع کے بارے میں بھی ایسا ہی کچھ فرما گئے ہیں۔ فرماتے ہیں
"لاہور لاہور ہی ہے۔ اگر آپکو اس پتے پر لاہور نہیں مل سکتا تو آپکی تعلیم ناقص اور ذہانت فاتر ہے"۔

لاہور کے حکمرانوں کے مطابق لاہور لاہورنہیں رہا بلکہ پیرس بن گیا ہے۔ ایک بار ایک بزرگ بڑے جذباتی انداز میں لاہور کی تعریف فرما رہے تھے ۔ ہم نے یونہی عادت سے مجبور ہو کر چھیڑ خانی کی  اور کہا
"بزرگو! اب لاہور لاہور نہیں رہا اب تو یہ فرنگیوں کا پیرس بن گیا ہے"۔
بزرگوار نے قہر آلود نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور لاہور کو پیرس بنانے اور کہنے والوں کے شجرہ نسب میں درستگی کی اور فرمانے لگے۔موا پیرس کبھی بھی لاہور نہیں بن سکتا۔   اسکے بعد پھر پیرس والوں پر ڈارون کے نظریہءارتقا کا اطلاق کیا پھر حکمرانوں پر اپنا غصہ نکالنے کے بعد دانشورانہ انداز میں فرمانے لگے۔
"پتر! لاہور ابھی بھی لاہور ہی ہے۔ یہ جتنا بھی پیرس بنا ہے نا یہ ہمارے بزرگوں کے وقت لاہور میں تھا ہی نہیں "۔

 لاہور صرف پیرس ہی نہیں بنا بلکہ  سال میں ایک بار برسات کے دنوں میں وینس میں تبدیل ہو جاتا ہے۔  کراچی کی طرح یہاں پر سمندر نہیں ہے اور دریا بھی اب کشتی رانی کی بجائے کرکٹ اور والی بال کھیلنے کے کام آتا ہے۔ اسلئےاگر آپ کشتی رانی کے شوقین ہیں تو آپکو کہیں اور جانے  اور پیسے ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں برسات کے دنوں میں آپ کشتی رانی کا شوق یہیں پر سستے داموں پورا کر سکتے ہیں۔ 

جیسے لاہور لاہور ہے اسی طرح یہاں کے باشندے بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ ان جیسی ہستیاں آپکو پاکستان بھر میں کہیں نہیں ملیں گے اور پاکستان سے باہر تو بالکل بھی نہیں۔ہمیں یاد ہے جب ہم نے زندگی میں پہلی بار تنہا سفر کیا تھا تو ہمیں یہ نصیحت فرمائی گئی تھی کہ کسی کے ساتھ زیادہ فری نہ ہونا کسی سے کچھ لیکر نہ کھانا وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جب ہم نے لاہور کی طرف رخت سفر باندھا تو ہمیں جو واحد نصیحت کی گئی وہ یہ تھی کہ "کسی لاہوری سے رستہ مت پوچھنا"۔

اگر آپ لاہور میں نئے ہیں تو آپکے پاس اچھا سا فون ہونا چاہیے جس میں گوگل میپس کی سہولت موجود ہو۔ اس سہولت کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ لاہوری گردی سے محفوظ رہیں گے دوسرا یہ کہ آپ رکشہ والوں کی تفریح طبع اور اضافی کمائی کا سبب بننے سے بھی بچے رہیں گے۔کیونکہ رکشے والوں کی عقابی نظریں پہچان لیتی ہیں کہ آپ نئے ہیں یا وہ نیا ہے۔ اگر آپکے پاس ذاتی سواری موجود  ہے تو آپ کسی لاہوری کی زندہ دلی کا شکار بننے کی بجائے اس پر انحصار کریں اور اگر آپکے پاس ذاتی سواری موجود نہیں ہے   اور آپ رکشہ سے سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپکو چاہیے کہ آپ  پہلے یہ دیکھ لیں کہ آپ نے جہاں جانا ہے وہ اس جگہ سے کتنی دور ہے اس طرح آپ  اعتماد سے بھاؤ تاؤ بھی  کرسکتے ہیں اور رکشے والے کی تفریح طبع سے بھی بچ سکتے ہیں۔

یونہی ایک بار ہمیں کہیں جانا مقصود تھا وقت کی قلت، راستوں اور لوکل ٹرانسپورٹ کے روٹس سے عدم واقفیت کی بنا پر ہم نے آٹو رکشے کو ترجیح دی۔ رکشے والے بھائی صاحب سے بھاؤ تاؤ کرنے کے بعد ہم سوار ہو گئےان صاحب نے تھوڑی دیر بعد ہمیں ایک جگہ اتار دیا۔ ڈھائی سو روپے ان کے ہاتھ پہ دھرنے کے بعد جب ہم نے ادھر ادھر دیکھا تو جگہ کچھ دیکھی بھالی ہوئی محسوس ہوئی۔ تھوڑا سا چلنے اور ادھر ادھر غور کرنے کے بعد پتا چلا کہ وہ بھائی صاحب ہمیں گیڑا دےگئے ہیں۔ ہم پہلے چوک کی ایک جانب کھڑے تھے ڈھائی سو روپے خرچ کرنے کے بعد دوسری جانب۔

 کہتے ہیں "جنے لہور نی ویکھیا او جمیا  ای نی"۔  اس مشہور و معروف مقولے کا مطلب بھی ہمیں لاہور کی سڑکیں پار کرتےہوئے سمجھ آیا جب بیشتر بار ہم لاہور کی کسی گاڑی اور ویگن کے نیچے آتے آتے بچے  اور ہمیں نئی زندگی ملی۔ لاہور کی سڑکوں پر پھرنے سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آپ اللہ کے ذکر اور موت سے غافل نہیں ہوتے۔ اگر آپکے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اور آپ اپنی ہی موج میں چلنے کے عادی ہیں تو آپکو ہوش میں رکھنے کیلئے بسوں اور گاڑیوں کے منحوس کن ہارن بھی پائے جاتے ہیں۔

اگر کبھی عید قربان یا کسی اور موقع پر بھیڑوں بکریوں کو ڈالے میں لدا ہوا دیکھ کر آپکے ذہن میں یہ سوال اٹھے کہ یہ زندہ سلامت منزل مقصود تک کیسے پہنچ جاتی ہیں تو آپ لاہور کی لوکل ٹرانسپورٹ سے استفادہ کریں اور سفر کر کے دیکھیں آپکے سوال کا جواب بھی مل جائے گا اور پریکٹس بھی ہو جائے گی۔ ایک نصیحت نما مشورہ دینا ہمارا فرض ہے کہ کبھی زیادہ مسافروں کو سوار کرنے پر آپ کنڈیکٹر سے الجھئے گا مت ورنہ آپکے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہےاور کچھ بھی ہونے کا انحصار عموماً کنڈیکٹر کی طبیعت پر ہوتا ہے۔ ایک بار ویگن پر سفر کرتے ہوئے جب ہمارا دم گھٹنے لگا تو ہم نے سٹوڈنٹ ہونے کے زعم میں کنڈیکٹر کو بڑھک لگائی کہ اب کسی کو چڑھایا تو تمہیں اتار دیں گے۔ اسکے بعد کی کہانی یہ ہے کہ موصوف نے گاڑی میں جگہ بنانے کیلئے ہمیں ہی اتار دیا اور اتارا بھی ایسی جگہ جہاں پانی بھی میسر نہیں تھا۔

لاہور میں حکماء بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ تقریباً تمام حکماء جنسی امراض میں اسپیشلسٹ ہیں۔ شہر میں جابجا لگے اشتہارات اور سائن بورڈز آپکو انکو موجودگی کا یقین دلاتے ہیں اور تقریباً ہر چوک پر ایسے مطب اور دوا خانے قائم ہیں۔  یہ حکماء اور انکی مشہوری کے اشتہارات اتنی کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ اچھا بھلا صحت مند انسان اپنے بارے میں شکوک شبہات کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر مطب میں مطب کے سائز اور حکیم صاحب کے بنک اکاؤنٹ کے مطابق فیلڈ ایجنٹس کام کرتے ہیں  ۔ انکا کام بسوں میں حکیم صاحب کی تیار کردو معجون  و دیگر ادویات فروخت کرنا ہوتا ہے اور یہ ایجنٹس ہی مطب کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ مطب کی نصف سے زائد کمائی ان کے مرہون منت ہوتی ہے۔ ان حکماء کے درمیان مقابلے کی فضا پائی جاتی ہے اسلئے اشتہار بازی کے ساتھ ساتھ  مریضوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے مختلف پیکجز کا اعلان کیا جاتا ہے۔مثلاً دوائی کے ساتھ ڈیڑھ چھٹانک سانڈھے کے تیل کی فراہمی، دو تولے معجون خاص اور دو مریضوں کے ساتھ تیسرا فری وغیرہ وغیرہ۔

اگر آپ خدانخواستہ دانتوں کے کسی مرض میں مبتلا ہیں اور اسکے مہنگے ترین علاج کی استطاعت بھی نہیں رکھتے تو بھی پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ یہاں لاہور پھر اپنی باہیں پھیلائے آپکو اپنی آغوش میں لینے کو تیار ہے۔ حکیموں کے دواخانوں کے باہر ہی آپکو سامنے والے تھڑے پر ماہر دندان ساز اپنے پورے سازوسامان مثلاً لکڑی کی کرسی، شیشہ ، ٹارچ والا موبائل، ہتھوڑی، زنبور اور ریگمال کے ساتھ دستیاب ہونگے۔  اس طرح 50 روپے سے 250 کے اندر اندر آپکے دانتوں کے بڑے سے بڑے مرض کا علاج ہو جائے گا۔

لاہور میں اس وقت تعلیم کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ جگہ جگہ کھمبیوں کی طرح قائم ٹیوشن سنٹرز بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کر رہے ہیں۔یہ سوشل ویلفیئر کی ایک عظیم مثال ہے۔ یہ کاروبار امداد باہمی کے زریں اصولوں پر قائم و دائم ہے اور روز افزوں ترقی کر رہا ہے۔ اکیڈمی مالکان کا سلوگن یہ ہے کہ
"آپ ہمارے گلے میں نوٹوں کے ہار ڈالیں ہم آپکے بچوں کے گلے میں تعلیم کا پٹہ ڈالیں گے"۔


اگر آپ کم انویسٹمنٹ میں کوئی اچھا کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور "بزنس میں سب جائز ہے" کے رہنما اصول پر بھی یقین رکھتے ہیں تو دیر مت کیجئے یہ کاروبار آپکے لئے بے حد مفید ثابت ہوگا۔ یہ کاروبار بھی دور حاضر کے دوسرے کاروباروں کی طرح   "ڈراؤ اور کماؤ" کی پالیسی پر چلتا ہے۔ یعنی اگر آپ والدین کو انکے بچوں کے مستقبل کے بارے میں ڈرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں  تو آپکا کاروبار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کریگا۔ آپ بے فکر ہو کر کام شروع کریں اپنی صلاحیتوں کا بروئے کار لاتے ہوئے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کریں  اور اپنی پہلی کمائی سے ہمیں مٹھائی بھیجنا مت بھولئے گا۔ 

ہفتہ، 8 فروری، 2014

السفر وسیلۃ الظفر

کسی سیانے عربی کا قول ہے "السفر وسیلۃ الظفر"۔ یعنی سفر وسیلہ ء کامرانی ہے۔ یہ قول ہم نے تب سنا جب آتش بچہ تھا اس لئے شروع شروع میں تو ہمیں اس کی سمجھ ہی نہیں آئی اور ہم  اسے اپنے سکول کے چوکیدار ظفر چاچا سے منسوب کرتے رہے۔ سالوں بعد جب ہمیں اسکا مطلب سمجھ آیا تو ہم اس پر ایمان کی حد تک یقین کر بیٹھے اور ہم نے گویا کامیابی کا راز پا لیا۔ اور ہر طرح کی کامیابی کے لئے اس مقولے پر عمل کرنے لگے۔ جس دن سکول میں کوئی ٹیسٹ ہوتا تو  ہم اس  ٹیسٹ میں کامیابی کیلئے سکول  کی پچھلی دیوار پھلانگ کر لمبے سفر پر نکل جاتے۔ لیکن اس طرح کے سفر کا نتیجہ ہماری امیدوں کے برعکس نکلنے کی وجہ سے ہمارا ایمان اس جملے پر سے اٹھنے لگا اور کامیابی کی بجائے ٹیچرز کے ڈنڈے، ابا جی کے تھپڑ اور اماں جی کے جوتے مقدر ٹھہرے تو  ہم نے اس جملے کو دشمن کی سازش سمجھ کر نظرانداز کرنا شروع کیا۔
کچھ عرصے بعد جب ہمیں اس مقولے کی ٹھیک طرح سے سمجھ آئی اور مذکورہ سفر کی نوعیت کا پتا چلا تو ہم نے پھر ایک بار اس پر یقین کر لینے کی کوشش کی۔لیکن جب ہمیں کئی بار اس تجربے سے گزرنا پڑا تو ایک بار پھر ہم نے کانوں کو ہاتھ لگائے اور پھر  سے اسے دشمن کی سازش سمجھنے لگے۔ پھر ہمیں کسی مہربان نے بتایا کہ یہ عرب حکایت ہے تو ہمیں اصل کہانی سمجھ آئی۔ کیونکہ اگر یہ کہنے والا عربی تھا تو اسکا شائد پاکستان چکر نہیں لگا اور اگر لگا بھی ہے تو اسکے لئے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی کیونکہ پاکستان میں سفر کرنے کیلئے انہوں نے اپنی علیحدہ سے سڑکیں بنا رکھیں ہیں  جہاں سے ہمارے جیسے راہ گزر کا گزرنا ہی ممنوع ہوتا ہے۔ رحیم یار خان میں موجود محل کے راستے تو اسی طرح کے ہیں باقی پاکستان کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔
ہمارے اب تک کے تجربے سے ہمارا اس مقولے سے ایمان اٹھ گیا ہے کیونکہ سفر ہمارے لئے       "وسیلۃ الظفر"کی بجائے "قطعۃ من العذاب" ہی ثابت ہوا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ جب بھی سفر پر نکلنے کا ارادہ ہوتا ہے تو ہم  کچھ دن پہلے سے ہی دافع  بلیّات  دعاؤں اور وظائف کا ورد شروع کر دیتے ہیں کہ یا خدا اس بار کسی نئی آزمائش سے محفوظ رکھنا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ جب بھی کہیں جانے کا پروگرام بنے تو چند دن پہلے ہی سے ہماری راتوں کی نیند غارت ہو جاتی ہے اور رات کو لائٹ بند کرتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے۔ اگر بد قسمتی سے نیند آ بھی جائے تو پرانے ہمسفروں اور بسوں کے عملے کی شکلیں ہمیں بھوت بن کے ڈرانے لگتی ہیں۔ انکی ہنسی سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے  وہ کہہ رہے ہوں کہ اب کہاں جاؤ گے بچو۔۔۔
اب چونکہ ہم پڑھائی کیلئے گھر سے سینکڑوں میل دور آ بسے ہیں اسلئے اس سب کے باوجود وقتاً فوقتاً لمبا سفر کرنا پڑتا ہے۔ بالفاظ دیگر ہمارے لئے صورتحال کچھ یوں ہے کہ
اک آگ کا دریا ہے اور "کود" کے جانا ہے
اور دوران سفر اس اچھل کود کے دوران ہماری جو حالت ہوتی ہے  اور اس دوران جو انواع اقسام کے نمونے ملتے ہیں وہ ناقابل بیان ہیں۔ لیکن بیان کئے بغیر بھی کوئی چارہ نہیں کیونکہ یہ سب برداشت کر کے   ہماری حالت اتنی بری ہو چکی ہے کہ کتھارسس کئے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا۔ بلکہ ایک ڈاکٹر صاحب تو ہماری حالت زار سن کر حیر ت سے فرمانے لگے کہ کمال ہے آپکا ابھی تک نروس بریک ڈاؤن نہیں ہوا۔
سفر کا سب سے اہم حصہ سواری کی حالت زار ہوتا ہے۔ اگر آپ  نے  پاکستان میں چلنے والی درمیانے درجے کی روڈ ٹرانسپورٹ  پر کبھی سفر کیا ہے تو آپ ہمارے دکھ کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں ۔  بس کا عملہ ڈرائیور کے ساتھ ٹاپے پر بیٹھ  پکے سگریٹ لگا رہا ہوتا ہے اور اسکے عین اوپر"سگریٹ نوشی منع ہے" کا ایک  بڑا سا اسٹیکر لگا ہوتا ہے ۔  اس دوران بس میں دھویں کی بو کو ختم کرنے  کیلئے ائر فریشنر کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی "خوشبو" سونگھنے کے بعد آپکو چرس کی بو بھی اچھی لگنے لگتی ہے ۔
دوران سفر ایک اور کڑی مشقت جس کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ بس میں چلنے والے گانے ہوتے ہیں۔منی بیگم اور عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی کے ایسے ایسے گانے چلائے جاتے ہیں جنہیں ہم چند منٹ بھی سن لیں تو ہمیں قے آجاتی ہے اور ہم دیواروں میں ٹکریں مارنے لگتے ہیں جس سے ہمارے سر میں بھی درد شروع ہو جاتا ہے۔ ہمارے خیال میں کوئی بھی ذی ہوش انسان ایسے  گانے صرف اسی وقت سنتا ہے جب اسے خود اذیتی مقصود ہو۔ویسے بھی ہمارے مشاہدے کے مطابق عطاءاللہ کے گانے تب اچھے لگتے ہیں جب آپ نے کم و بیش چار پانچ شادیاں کر رکھی ہوں لیکن پھر بھی آپ سچے پیار کے متلاشی ہوں۔
لیکن بسوں اور ٹرکوں والوں کو تواتر سے عطاءاللہ کے گانے سنتے دیکھ کر ہمیں اپنے خیال پر شک ہو چلا تھا کہ یہ عقدہ کھلا جس  سے ہمارے خیال کی تصدیق ہو گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ ہم ایک بارتنگ آ کر کنڈیکٹر سے الجھ پڑے کہ بھائی خدا کا خوف کرو ہمیں ہمارے گناہوں کی دنیا میں سزا نہ دو اور گانے بند کردو۔ کنڈیکٹر صاحب فرمانے لگےکہ اگر گانے بند کر دئیے تو استاد سے  گاڑی نہیں چلے گی۔
 کیوں بھائی استاد نے ڈیک میں چرس کا تڑکہ لگایا ہوا ہے؟
نئیں پا جی توانوں  نئیں پتا اگر گانے بند ہو گئے تے استاد نو نیند آ جانی فیر اگے تسی آپ سمجھدار او۔
یہ سن کر ہم حیران رہ گئے اور تھوڑے سے پریشان بھی ہوئے لیکن ہم چونکہ گانوں سے بیزار ہوئے بیٹھے تھے اسلئے گانے بند کروانے پر اڑے رہے۔ کنڈیکٹر صاحب نے "جیویں تواڈی مرضی" کہہ کر گانے بند کروا دئیے۔ گانے بند ہونے پر ہم نے سکون کا سانس لیا اور اطمینان سے سیٹ پر سر رکھا اور آنکھیں بند کر کے  سفر سے لطف اندوز ہونے لگے۔گانے بند ہوئے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا کہ بس کو زوردار جھٹکا لگا اور ہم سمیت کئی مسافروں کا سر اپنی اگلی نشستوں  سے ٹکرایا اور تمام مسافروں کے منہ سے با جماعت گالیاں ابل پڑیں۔ ہم نے غصے سے ڈرائیور کی طرف دیکھا تو کنڈیکٹر صاحب ہماری طرف آئے اور فرمانے لگے "پاجی میں توانوں پہلے ای کہیا سی"۔
آپکے سفر کا اچھا یا برا ہونا آپکے ہمسفر بالخصوص آپکی ساتھ  والی نشست والے مسافر اور  اگلی اور پچھلی نشستوں پر برا جمان مسافروں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔اگر آپ ہماری طرح شریف(شریف اسلئے کہ جو کچھ کر نہیں سکتا وہ شرافت ہی دکھا سکتا ہے) اور دھان پان سے آدمی ہیں  تو آپکے ساتھ والا مسافر  آپکی چوتھائی نشست پر قبضہ کرنا اپنا حق ہمسائیگی سمجھتا ہے اور اگر وہ آپکی آدھی نشست پر قبضہ کر لے تو وہ اسکا بونس۔ اسی طرح  اکثر مسافروں کو بولنے کی بیماری ہوتی ہے انکی کوشش ہوتی ہے کہ وہ 12 گھنٹے کے سفر میں  آپکے ساتھ کوئی رشتہ داری نکال لیں ۔ اگر کوئی زیادہ ایڈوانس ہوں تو وہ آپ سے رشتہ داری بنانے کے لئے بھی تیار ہو جائیں گے ۔
مسافروں کی وہ قسم جو ہمیں پسند ہے وہ   بے حد نایاب ہے۔یہ وہ مسافر ہیں جو بس میں سوار ہو کر صرف ایک بار ہی  زبان ہلاتے ہیں۔ "ایکسیکیوزمی "  اور بیٹھ جاتے ہیں۔یا پھر ایسے لوگ جو صرف تعارف کرتے اور کرواتے ہیں اور باقی کا سفر  خاموشی سے کٹتا ہے۔ اگر آپکو ایسا ہمسفر  میسر آ جائے تو اللہ کا شکر ادا کریں اور ہو سکے تو خوشی میں کچھ صدقہ بھی کر دیں تاکہ آپکو اگلی بار بھی ایسا بیبا ہمسفر ملے۔
بہت بولنے والے مسافروں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپکو کھانے کی دعوت دیتے ہیں اور اگر آپ انکار کردیں تو وہ مزید اصرار کرتے ہیں اور اگر آپ تب بھی انکی دعوت قبول نہ کریں تو وہ کوئی ایسا جذباتی جملہ بولیں گے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی آپکی آنکھوں میں سے آنسو آ جائیں گے۔ ایک بار یونہی ایک ہمدرد ہمسفر ملے انہوں نے ہمیں سفر کے آغاز میں ہی اپنا مکمل تعارف ، پتہ اور سفر کی وجہ بیان فرما دی ۔  اسکے  ساتھ ساتھ اپنےنومولود  بھانجے کی تصویر   بھی دکھائی اور  اپنے  گھر میں آنیوالے نئے مہمان  کی آمد  کی پیش گوئی بھی کی۔ ان صاحب نے دوران سفر ایک اسٹاپ سے کچھ چپس  وغیرہ خرید لئے اور ہمیں بھی کھانے کی دعوت دی جسے ہم نے شکریہ کے ساتھ ٹھکرا دیا۔ انکے بارہا اصرار پر بھی میں نے لینے سے انکار کیا تو فرمانے لگے " یہ میں نے آپکے لئے خریدے تھے میں تو چپس ویسے ہی نہیں کھاتا"۔
کچھ گھنٹوں بعد جب ہم سردی سے بچنے کے لئے اپنے اوپر چادر ڈال کر سو رہے تھے تو ہمیں سردی لگنے کا احساس ہوا   ۔ اٹھ کر خالی الذہنی کے عالم میں ادھر ادھر دیکھا ۔ پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا لیکن حواس بحال ہونے پر دیکھا کہ وہ صاحب ہماری چادر لے کے آرام فرما رہے ہیں۔
دوران سفر اکثر اوقات آپکے ساتھ والے مسافر آپکو امی جی سمجھتے ہوئے آپکے کندھے پر اپنا سر  رکھ کر آرام فرمانا بھی پسند کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کو وہ اپنا حق سمجھتے ہیں اور آپ سے شفقت کی امید رکھتے ہیں۔ ایک بار ہمارے ساتھ ایک بھاری بھر کم صاحب بیٹھ گئے۔حق ہمسائیگی تو وہ بیٹھتے وقت ہی حاصل کر چکے تھےمطلب ہماری چوتھائی سے کچھ زائد نشست پہ قبضہ۔ بس کی روانگی سے کچھ دیر بعد ہی انکے ناک سے جلترنگ بجنے لگا۔شروع میں تو خاصی کوفت ہوئی لیکن پھر قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیا۔ یہاں تک تو بات قابل برداشت تھی ۔لیکن کچھ دیر بعد انہوں نے اپنا تقریباً پونے بارہ سیر وزنی سر ہمارے کمزور سے کندھے پہ ٹکا دیا جو کہ پہلے ہی ہمارے گناہوں کا بوجھ اٹھا اٹھا کے تھک چکے تھےاب انکے سر کا وزن کہاں برداشت کرتے۔ اب ہم اس کڑی مصیبت میں پھنسے اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کر رہے تھے اور ماضی میں کئے گئے نیک کام یاد کرنے کی  کوشش کرنے لگے جو اس "بھاری پتھر " کو ہمارے کندھے سے ہٹا دیتے۔
لیکن باوجود کوشش کے جب ہمیں کوئی ایسا کام یاد نہیں آیا تو ہم نے اللہ سے اپنے اگلے گناہ کی پیشگی معافی مانگی  ۔ نیکیاں یاد کرنے کی کوشش چھوڑ کر اپنے زور بازو پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا اور انکی بڑھی ہوئی توند میں اپنی سلاخ سی کہنی چبھو دی۔زور بازو کے استعمال کی برکت سے وہ صاحب نیند سے بیدار ہوئے ۔ سیدھے ہو کر تھوڑی دیر ادھر ادھر دیکھا اور چند منٹ بعد پھر ہارمونیم بجنے لگا اور اسی ترتیب سے وہ پھر ہمارے کندھے پر آ گرے۔ ہم نے بھی اپنا طریقہ آزمایا اور ساری رات یہ کھیل چلتا رہا وہ اپنا حق استعمال کرتے رہے اور ہم اپنا زور بازو۔گیارہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد صبح جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ہمارا دایاں کندھا تقریباً سن ہو چکا تھا اور مزید بوجھ اٹھانے سے انکاری بھی۔ ہفتہ بھر ناریل کے تیل کی مالش کرنے سے ٹھیک ہوا اور تب تک ہم لاہور واپسی کےلئے تیار ہو چکے تھے۔
بس پر سفر کے دوران ہمیں عام طور پر بس کی تنگ اور سخت نشستوں سے مسئلہ رہتا اور ہم بس مالکان کو برا بھلا کہتے رہتے۔لمبے سفر کے دوران تنگ اور سخت نشست پر بیٹھنا بہت اذیت ناک مرحلہ ہوتا ہے۔لیکن جب پہلی بار ہمیں اسکائی ویز  لاہور پر سفر کا اتفاق ہوا تو وہ نشستیں جن پر بیٹھنا ہمیں عذاب لگتا تھا  پھولوں کی سیج لگنے لگیں۔ اسکی وجہ شیخ سعدی کی جوتوں والی حکایت سے ملتی جلتی ہے۔ شیخ سعدی کی روح سے معذرت کے ساتھ
"مجھے بس کی تنگ اور سخت نشست پر بیٹھنا عذاب لگتا تھا اور میں اسکی برائیاں کر کے نا شکری کا مرتکب ہوتا تھا۔ لیکن جب اس نشست پر بیٹھ کر میں نے اپنے قدموں میں موڑھا رکھ کے بیٹھے ہوئے آدمی کو دیکھا تو نشست پا لینے پر اللہ کا شکر ادا کیا اور اپنی ناشکری کی معافی مانگی"۔

جمعرات، 26 اپریل، 2012

پہلی ڈیٹ




وہ کافی دیر سے آئینے کے سامنے کھڑا اپنے بے ڈھنگے بالوں کو سیدھا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اور بے ڈھنگی آواز میں گنگنا رہا تھا

پی لوں
تیرے نیلے نیلے ہونٹوں سے شبنم
پی لوں
تیرے گیلے گیلے ہونٹوں سے سرگم

کبھی

تم جو آئے زندگی میں بات بن گئی
عشق مذھب عشق میری ذات بن گئی

میں نے اسکی خوشی کی وجہ پوچھی تو اس نے تمسخر سے میری طرف دیکھا اور پھر اپنی بیہودہ اواز میں گنگنانے لگا

پریتو میرے نال ویاہ کر لے
بے بے نال صلاح کر لے

آخر تنگ آ کر میں نے اسے جوتا کھینچ مارا لیکن وہ پھرتی سے جھکائی دے گیا اور پر اسرار انداز میں میرے قریب آ کر  کہنے لگا
"تیری بھابھی سے ملنے جا رہا ہوں"
کیا؟؟؟ مجھے اسکی بات پر یقین نا آیا۔۔۔۔۔


خیر قصہ مختصر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ جلدی جلدی تیار ہوا پینٹ ،شرٹ اور ٹائی بھائی سے مانگی، کوٹ اور شوز کے لئے چاچو کی منتیں کیں جیل اور پرفیوم ایک دوست سے ادھار لیا۔۔۔۔۔ اسکی پوری ڈریسنگ میں صرف جرابیں اسکی اپنی تھیں اور وہ بھی مختلف (اسکا مقولہ یہ ہے کہ جرابیں کونسا نظر آتی ہیں)
یہ اسکی زندگی کی پہلی ڈیٹ تھی جس کے لئے وہ اتنا پرجوش تھا انکی ملاقات ایک ہوٹل میں طے تھی وقتِ مقررہ پر اس نے اپنی ضیاءالحق کے دور کی موٹر سائیکل (جس کو وہ پیار سے دلبر کہا کرتا ہے) کو اچھی ظرح صاف کیا اور حسبِ معمول اسکی ڈینٹ زدہ ٹنکی کو پیار سے  سہلا یا اور خوشی کے گیت گاتا ہوا اپنی عزیز سواری پر سوار ہو کر چل دیا

چل کڑیے نی چل چل میرے نال
تیرا میرا ملنا ہی ڈبل دھمال

دوسری طرف چونکہ اسکی گرل فرینڈ کا تعلق بھی شریف اور عزت دار گھرانے سے تھا اس لئےاپنی شرافت کا بھرم رکھنے کے لئے وہ بھی برقع اوڑھ کر آئی تھی تاکہ غیر محرموں کی نظر اس پرنا پڑے حتی کہ ہاتھوں پر گلوز بھی چڑھائے ہوے تھے اور شائد وہ اسکے صبر کا امتحان  بھی لینا چاہتی تھی
اور میرا دوست حسینہء عالم گرل فرینڈ کے دیدار کے لئے بے چین ہو رہا تھا اور سوچ رہا تھا

کیا وہ اسکے بے مثال حسن کا سامنا کر پائے گا؟
کیا اسکی آنکھیں اسکے پرنور چہرے کا دیدار کر پائیں گی؟
اسکا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا

آخرکفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
 اسکی دلی مراد بر آئی

آخر
اسکی گرل فرینڈ نے نقاب الٹ ہی دیا
اسے دیکھتے ہی اسکا دل دھڑکنا بھول گیا
وہ بت بنا رہ گیا
اسکے سر میں دھماکے ہونے لگے
اسے ہر چیز گھومتی محسوس ہو رہی تھی
 وہ حسینہء عالم تھی یا

وہ تو ملکہ قلوپطرہ سے ملنے کے خواب سجائے بیٹھا تھا

لیکن

وہ کیا تھی؟
ملکہ قلوپطرہ
یا

افریقی ملکہ حسن

گہرا رنگ، بھدے نقوش، موٹی سی ناک اور مہاسوں سے بھرا چہرا

وہ زیادہ دیر اس منظر کی تاب نہ لا سکا
اور
وہیں ٹیبل پر ڈھیر ہو گیا

چھن سے جو ٹوٹے کوئی سپنا
جگ سونا سونا لگے
جگ سونا سونا لگے