اتوار، 5 جون، 2016

اِک شہرِ خموشاں ہے اور چھائی ہے تنہائی

اِک شہرِ خموشاں ہے اور چھائی ہے تنہائی
بھیڑ ہے لوگوں کی اور دل ہے تماشائی

یکطرفہ تکلم ہے خود ہی سے مخاطب ہیں
خود سے بیگانہ ہیں خود ہی سے شناسائی

کشکول ہے ہاتھوں میں دہلیز ہے غیروں کی
پھر پوچھتے ہیں خود سے کیسی ہے یہ رسوائی

دیکھتے ہیں دن میں ان گنت تماشے ہم
دل بجھ تو گیا لیکن بجھتی نہیں بینائی

باغ کے مالی نے جب باغ کو روندا تھا

کہتے ہیں یہاں تب سے ہرسو ہے خزاں چھائی


محمد عبداللہ

2 تبصرے:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ