جمعہ، 13 جنوری، 2017

گر یہ اندازِوفا ہےتو جفا کیا ہوگی

گر یہ اندازِوفا ہےتو جفا کیا ہوگی
تو ہو گر مجھ سے خفا، زیست خفا کیا ہوگی

دمِ رخصت  جو نکالی تھی میری جاں تم نے
ساعتِ مرگ وہ جاں مجھ سے جدا کیا ہوگی

تجھ سے پرنور تھا میرا یہ گلستانِ حیات
اب تو یہ یاد نہیں بادِصبا کیا ہوگی

تیری نفرت کا بھی انداز جدا ہے سب سے
ہائے ظالم تیری الفت کی ادا کیا ہوگی

توڑ بیٹھا ہے یہ برگ اپنا شجر سے رشتہ

اب اسے فکر ہے کہ سمتِ ہوا کیا ہوگی

محمد عبداللہ

جمعرات، 28 جولائی، 2016

ابر برسا ہے تیری یاد میں رونے کے لئے

ابر برسا ہے تیری یاد میں رونے کے لئے
نقش سارے تیری یاد کے دھونے کے لئے

رسمِ الفت کے تقاضوں کو نبھایا بھی مگر
موت درکار ہے شائد تیرا ہونے کے لئے

ایک مدت سے جو بنجر ہوئی رہتی ہیں
نام کافی ہے تیرا آنکھیں بھگونے کے لئے

جام کے جام سرِ شام لنڈھا دیتا ہوں
اور ہے چارہ کہاں تجھ میں سمونے کے لئے

کیا ضروری ہے کہ دشمن ہی کوئی جال بنیں
یار کیا کم ہیں میری کشتی ڈبونے کے لئے

خون شامل ہے محبت کی کہانی میں مرا

اور کیا رنگ بھروں لفظ پرونے کے لئے

محمد عبداللہ

اتوار، 5 جون، 2016

اِک شہرِ خموشاں ہے اور چھائی ہے تنہائی

اِک شہرِ خموشاں ہے اور چھائی ہے تنہائی
بھیڑ ہے لوگوں کی اور دل ہے تماشائی

یکطرفہ تکلم ہے خود ہی سے مخاطب ہیں
خود سے بیگانہ ہیں خود ہی سے شناسائی

کشکول ہے ہاتھوں میں دہلیز ہے غیروں کی
پھر پوچھتے ہیں خود سے کیسی ہے یہ رسوائی

دیکھتے ہیں دن میں ان گنت تماشے ہم
دل بجھ تو گیا لیکن بجھتی نہیں بینائی

باغ کے مالی نے جب باغ کو روندا تھا

کہتے ہیں یہاں تب سے ہرسو ہے خزاں چھائی


محمد عبداللہ

جمعہ، 11 ستمبر، 2015

اے ہم نشیں ذرا صبر

میں چلتا جاؤں رات بھر کہیں تو آئے گی
 سحر رات گر اندھیری ہے ہے چاند بھی یہیں مگر

 کٹ رہی ہے زندگی بری سہی بھلی سہی
کٹ رہے ہیں گر یہ دن تو کٹ بھی جائے گا ہجر

ہے دھوپ گر کڑی یہاں، ہے سایہ بھی مگر یہاں
 برس رہی ہے آگ تو، ہیں سائے کے لئے شجر

مایوسیوں کے عہد ہیں سبھی غموں میں قید ہیں
حالات ہیں برے سہی، تو ہے خوشی کی بھی خبر

بہار یاں بھی آئے گی بلبل بھی نغمہ گائے گی
دن بھی جائیں گے بدل اے ہم نشیں ذرا صبر

محمد عبداللہ

اتوار، 10 مئی، 2015

محبت کی کہانی کا کبھی انجام مت پوچھو

محبت کی کہانی کا کبھی انجام مت پوچھو
کرے سادات کو رسوا ہے ایسا کام مت پوچھو

میں اپنے غم بھلانے کو تیرے مے خانے آیا ہوں
اے ساقی رحم کردو اور پلا دو جام مت پوچھو

تیرا دیدار کرنے کو تیری چوکھٹ پہ بیٹھا ہوں
تم اتنے سخت لہجے میں کیا ہے کام مت پوچھو

سنا ہے شہر بھر میری ہی رسوائی کے چرچے ہیں
آخر کیوں ہوا میں اس قدر بدنام مت پوچھو

امیرِ شہر نے انسان کی بولی لگائی ہے
بِکے جاؤ میرے لوگو کوئی بھی دام مت پوچھو

مسیحائی کے پردے میں چھپے بیٹھے ہیں سب قاتل
یہ کس انداز میں لوگوں کی لے لیں جان مت پوچھو

میرے ہمدرد نے پوچھا کہ میرا حال کیسا ہے
ہنسا میں اور کہا اس سے ارے نادان مت پوچھو