جمعہ، 13 جنوری، 2017

گر یہ اندازِوفا ہےتو جفا کیا ہوگی

گر یہ اندازِوفا ہےتو جفا کیا ہوگی
تو ہو گر مجھ سے خفا، زیست خفا کیا ہوگی

دمِ رخصت  جو نکالی تھی میری جاں تم نے
ساعتِ مرگ وہ جاں مجھ سے جدا کیا ہوگی

تجھ سے پرنور تھا میرا یہ گلستانِ حیات
اب تو یہ یاد نہیں بادِصبا کیا ہوگی

تیری نفرت کا بھی انداز جدا ہے سب سے
ہائے ظالم تیری الفت کی ادا کیا ہوگی

توڑ بیٹھا ہے یہ برگ اپنا شجر سے رشتہ

اب اسے فکر ہے کہ سمتِ ہوا کیا ہوگی

محمد عبداللہ

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ