جمعرات، 28 جولائی، 2016

ابر برسا ہے تیری یاد میں رونے کے لئے

ابر برسا ہے تیری یاد میں رونے کے لئے
نقش سارے تیری یاد کے دھونے کے لئے

رسمِ الفت کے تقاضوں کو نبھایا بھی مگر
موت درکار ہے شائد تیرا ہونے کے لئے

ایک مدت سے جو بنجر ہوئی رہتی ہیں
نام کافی ہے تیرا آنکھیں بھگونے کے لئے

جام کے جام سرِ شام لنڈھا دیتا ہوں
اور ہے چارہ کہاں تجھ میں سمونے کے لئے

کیا ضروری ہے کہ دشمن ہی کوئی جال بنیں
یار کیا کم ہیں میری کشتی ڈبونے کے لئے

خون شامل ہے محبت کی کہانی میں مرا

اور کیا رنگ بھروں لفظ پرونے کے لئے

محمد عبداللہ

2 تبصرے:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ