جمعہ، 11 ستمبر، 2015

اے ہم نشیں ذرا صبر

میں چلتا جاؤں رات بھر کہیں تو آئے گی
 سحر رات گر اندھیری ہے ہے چاند بھی یہیں مگر

 کٹ رہی ہے زندگی بری سہی بھلی سہی
کٹ رہے ہیں گر یہ دن تو کٹ بھی جائے گا ہجر

ہے دھوپ گر کڑی یہاں، ہے سایہ بھی مگر یہاں
 برس رہی ہے آگ تو، ہیں سائے کے لئے شجر

مایوسیوں کے عہد ہیں سبھی غموں میں قید ہیں
حالات ہیں برے سہی، تو ہے خوشی کی بھی خبر

بہار یاں بھی آئے گی بلبل بھی نغمہ گائے گی
دن بھی جائیں گے بدل اے ہم نشیں ذرا صبر

محمد عبداللہ

5 تبصرے:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ