اتوار، 10 مئی، 2015

محبت کی کہانی کا کبھی انجام مت پوچھو

محبت کی کہانی کا کبھی انجام مت پوچھو
کرے سادات کو رسوا ہے ایسا کام مت پوچھو

میں اپنے غم بھلانے کو تیرے مے خانے آیا ہوں
اے ساقی رحم کردو اور پلا دو جام مت پوچھو

تیرا دیدار کرنے کو تیری چوکھٹ پہ بیٹھا ہوں
تم اتنے سخت لہجے میں کیا ہے کام مت پوچھو

سنا ہے شہر بھر میری ہی رسوائی کے چرچے ہیں
آخر کیوں ہوا میں اس قدر بدنام مت پوچھو

امیرِ شہر نے انسان کی بولی لگائی ہے
بِکے جاؤ میرے لوگو کوئی بھی دام مت پوچھو

مسیحائی کے پردے میں چھپے بیٹھے ہیں سب قاتل
یہ کس انداز میں لوگوں کی لے لیں جان مت پوچھو

میرے ہمدرد نے پوچھا کہ میرا حال کیسا ہے
ہنسا میں اور کہا اس سے ارے نادان مت پوچھو

8 تبصرے:


  1. امیرِ شہر نے انسان کی بولی لگائی ہے
    بِکے جاؤ میرے لوگو کوئی بھی دام مت پوچھو
    عمدہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھی غزل ہے۔ لیکن ابتدا میں دام، کام، جام کے قافیے استعمال کرتے کرتے آخری دو اشعار میں آپ جان اور نادان پر کیوں آگئے؟

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. اور کوئی بن نہیں رہا تھا :P مجھے لگا کہ یہ بھی چل جائیں گے

      حذف کریں
  3. میرے ہمدرد نے پوچھا کہ میرا حال کیسا ہے
    ہنسا میں اور کہا اس سے ارے نادان مت پوچھو

    جواب دیںحذف کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ