منگل، 24 دسمبر، 2013

انتطامی بدمعاشی بمقابلہ طلباء بدمعاشی

چند ہفتے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا تماشہ کافی حد تک ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ حسب معمول میڈیا نے اس معاملے پر بھی روایتی بد دیانتی کا مظاہرہ کیا اور حالات کی اپنی مرضی سے تصویر کشی کی ۔ میڈیا کی اطلاعات اور حقیقت میں اتنا زیادہ فرق دیکھ کرمیرا  بلاگ لکھنے کا ارادہ تو تھا ہی لیکن کچھ مصروفیت اور بہت زیادہ سستی کی وجہ سے یہ کام نہیں کر پایا۔  علی حسان بھائی سے انتہائی معذرت کہ بوجہ سستی اور اسکے بعد امتحانات انکے حکم کی فوراً تعمیل نہ کر سکا ۔
ہاسٹل نمبر 16 کا تنازعہ درحقیقت یونیورسٹی انتظامیہ اور اسلامی جمیعت طلبہ کی برسوں پرانی مخاصمت کی ہی ایک کڑی ہے۔ ہاسٹل میں پولیس آپریشن کوئی غیر متوقع بات نہیں تھی۔ چند ماہ پہلے جب ایک نمبر ہاسٹل سے دہشت گرد پکڑا گیا تب یونیورسٹی انتظامیہ نے اسے جمیعت کے سر منڈھنے کی کوشش کی اور یہ موقف اختیار کیا گیا کہ یونیورسٹی میں دہشتگردوں کو پناہ دینے والی ایک مخصوص طلبہ جماعت ہے اور اس وقت یونیورسٹی ہاسٹلز میں پولیس آپریشن کا مطالبہ کیا گیا۔ جو کہ  نا معلوم وجوہات کی بنا پر واپس لے لیا گیا۔
کچھ عرصہ پہلے  ہاسٹل نمبر 16 خالی کرا کے طالبات کو دینے کا اعلان کیا گیا جو کہ یقینی طور پر لاء کالج کے طلبہ اور جمیعت کیلئے بری خبر تھی اور اسکا کوئی جواز بھی نہیں بنتا تھا۔ اسکی ایک وجہ تو طلبہ کیلئے بھی ہاسٹلز کی کمی تھی اور دوسری وجہ یہ کہ ہاسٹل 16 دوسرے بوائیز ہاسٹلز کے ساتھ ہے جبکہ باقی گرلز ہاسٹلز علیحدہ سے بنے ہوئے ہیں اسلئے لڑکوں کے ہاسٹلز کے ساتھ ہی لڑکیوں کو ہاسٹل دے دینا  بڑی عجیب سی بات ہے۔اس اعلان کے بعد لاء کالج کے طلبہ اور جمیعت نے احتجاج شروع کر دیا کیونکہ جو طلبہ پہلے سے وہاں مقیم تھےانکو دوبارا الاٹمنٹس نہیں دی جا رہی تھیں اور جمیعت یہ ہاسٹل چھوڑنے کے لئے تیار نہیں تھی۔جمیعت کی لاء کالج میں اکثریت کی وجہ سے یہ ہاسٹل جمیعت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا اسی لئے لڑکیوں کو ہاسٹل دینے کیلئے انتظامیہ کی نظر کرم کا مستحق یہ  ہاسٹل  ٹھہرا تھا۔
ہاسٹل پر ریڈ سے دو دن پہلے لاء کالج میں جمیعت اور اساتذہ کی لڑائی کا واقعہ پیش آیا جس میں جمیعت پر اساتذہ کے ساتھ مار پیٹ کا الزام لگایا گیا جس کو ابھی تک جمیعت ماننے سے انکاری ہے۔ اس تنازع میں دونوں فریق ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں۔ بعد ازاں اسی واقعے کو وجہ بناتے ہوئے  انتطامیہ نے ہاسٹل پر پولیس ریڈ کروایا گیا۔
30 نومبر کی رات کو ہاسٹل پر پولیس ریڈ ہوا جس کے نتیجے میں کئی لڑکوں کو حراست میں لے لیا گیا اور ہاسٹل کو پولیس کی تحویل میں دے دیا گیا۔ اگلی صبح انتظامیہ نے طلبہ کو اپنا سامان اٹھانےکا کہا اور کمروں کے تالے توڑے جانے لگے ۔ جو طلبہ موقع پر موجود  تھے وہ تو اپنا سامان بچا لے جانے میں کامیاب ہو گئے لیکن جو وہاں موجود نہیں تھے انکا سامان انتظامیہ نے اپنی تحویل میں لے لیا جو کہ میری اطلاعات کے مطابق تا حال واپس نہیں مل سکا اور میرے چند دوست جن کا سامان انتظامیہ کی تحویل میں ہے وہ ابھی تک ہال کونسل اور دوسرے دفتروں کے چکر لگا رہے ہیں۔
ہاسٹل خالی ہو جانے کے بعد جمیعت نے پھر احتجاج شروع کر دیا لیکن ابھی تک بات تشدد تک نہیں پہنچی تھی۔ شام کو ناظم جامعہ عبدالمقیت کی پریس کانفرنس ہوئی جس میں انہوں نے ہاسٹل کے مسئلے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور اساتذہ کے ساتھ مار پیٹ والی بات پر وضاحت پیش کی۔ جمیعت ابھی تک پر امید تھی کہ شائد انتظامیہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ دے۔اسی لئے جمیعت  نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا تھا۔
لیکن اگلی صبح ہاسٹل کی بوائیز ہاسٹل کی طرف والی دیوار اونچی کی جانے لگی اور داخلی دروازے پر  رستہ بند کرنے کیلئے دیوار کی تعمیر شروع کر دی گئی۔ یہ دیکھ کر طلبہ اشتعال میں آ گئے اور انہوں نے   ہاسٹل پر پتھراؤ شروع کر دیا جس کے بعد پولیس کو بلا لیا گیا اور مزید کچھ طلبہ گرفتار کر لئے گئے۔ پھر اسی دن احتجاج کا دائرہ بڑھا  اور دوپہر کو لاء کالج کے طلبہ نے کیمپس پل  بلاک کر دیا اور اسی دوران گاڑیوں کو جلانے کے واقعات پیش آئے۔ جسے میڈیا  پر بھی رپورٹ کیا گیا اور اسکے بعد جو طوفان اٹھا  اس سے سب واقف ہیں۔
اس پورے واقعے میں سب کا فوکس  اساتذہ کے ساتھ مارپیٹ اور گاڑیاں جلانے تک ہی رہا۔ کسی نے اس سے پہلے کے حالات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی کی آخر کیا وجہ ہے کہ گاڑیاں جلانے تک نوبت آئی۔ گاڑیاں جلانے سے پہلے مہینہ بھر ہونے والے پر امن احتجاج کو کسی نے توجہ کے قابل نہیں سمجھا ۔نہ میڈیا نے اور نہ ہی  اس واقعے کو بنیاد بنا کے جمیعت کو برا بھلا کہنے والے دانشوروں نے۔ ہر کوئی اپنے انداز میں بغض جمیعت کا مظاہرہ کرتا رہا۔
اس سارے تنازع کی پہلی اور بنیادی وجہ بوائیز  ہاسٹل  کو لڑکیوں کو الاٹ کرنا تھی۔   یہاں پر انتظامیہ نے لڑکیوں  کے ہاسٹلز کی کم تعداد کا رونا رویا ہے جو کہ بالکل درست ہے اور اس تنازع میں مطعون جماعت بہت عرصے سے اس بات کو پر امن طریقے سے مطالبہ کرتی رہی ہے کہ نئے ہاسٹل تعمیر کئے جائیں۔ خیر لڑکیوں کیلئے نیا ہاسٹل بنانے کی بجائے بوائیز ہاسٹل  دینے کی کیا جواز  تھا۔ کیا بوائیز ہاسٹلز میں طلبہ کیلئے بہت جگہ ہے۔۔۔۔۔؟ 2012 ء میں جن طلبہ نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا ان میں سے بہت سے طلبہ کو ایک سال گزرنے کے بعد بھی ہاسٹل نہیں مل سکے اور یہی حال 2013 ء میں  رہا۔ یونیورسٹی میں آخری بار تعمیر ہونیوالا ہاسٹل یہی تھا جو کہ 1992 ء میں بنایا گیا۔کیا وجہ ہے کہ  23 سالوں میں ایک بھی نیا ہاسٹل تعمیر نہیں کیا گیا۔ کیا اس تمام عرصے میں ڈیپارٹمنٹس اور طلبہ کی تعداد وہی رہی جو 20 سال پہلے تھی ۔ اور  اس تنازع میں جمیعت یہ بھی کلیم کرتی رہی کہ یہ ہاسٹل   طلبہ یونین کے فنڈ سے بنایا گیا تھا یہ ہاسٹل تو یونیورسٹی فنڈ سے بنا ہی نہیں  پھر انتظامیہ  اس ہاسٹل پر قبضہ کیسے کر سکتی ہے۔
دوسری بات یہ کہ اس لڑکیوں کو دینے کیلئے ہاسٹل 16 کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا۔ اسکے ساتھ موجود 17 نمبر ہاسٹل جو کہ میری معلومات کے مطابق کسی دور میں لڑکیوں کے لئے تعمیر کیا گیا تھا جس کی ساخت اور طرز تعمیر بھی دیگر بوائیز ہاسٹل سے مختلف ہے۔ اگر ہاسٹل ہی دینا تھا تو وہ بھی دیا جا سکتا تھا جو بوائیز ہاسٹل میں سب سے منفرد ہے۔  اب سوال یہ ہے کہ ہاسٹل نمبر 16 کا انتخاب لڑکیوں کو انکا حق دینے کی وجہ سے تھا یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔۔۔۔۔۔۔؟
تیسری اہم بات کہ اس اعلان کے بعد جن جمیعت اور لاء کالج کے طلبہ کی طرف سے احتجاج شروع ہوا تو انتظامیہ نے اسکی سنوائی کیوں نہیں کی۔وی سی ہاؤس ، ہال کونسل اور دیگر جگہوں پر ہونے والے احتجاج میں ایک پتھر بھی نہیں چلا لیکن وی سی، چئیرمین ہال کونسل اور دیگر اہم عہدیداران نے اپنے دفتروں سے باہر نکل کے  انکی بات سننا بھی گوارا نہیں کی۔ اور اس دوران ایک بھی میڈیا گروپ  کو توفیق نہیں ہوئی کہ اس احتجاج  کو کور کرے۔
میڈیا  کے سامنے ہاسٹل پر ریڈ کرنے کیلئے جس بات  کو ایشو بنایا گیا وہ اساتذہ کے ساتھ مار پیٹ  تھی۔ جمیعت ابھی تک اس بات کی تردید کر رہی ہے بلکے انکے مطابق تو مارپیٹ اساتذہ کی طرف سے کی گئی ناکہ طلبہ کی طرف سے۔ میرے ایک دوست  کے مطابق تو کچھ جمیعت کے لڑکے یہ کہتے پائے گئے کہ کاش ہم دو چار لگا ہی دیتے خبر تو یہی لگنی تھی کم از کم سچ تو ہوتی۔ انتظامیہ اسکے ثبوت کے طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کی موجودگی کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن یہ فوٹیج ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ اگر انتظامیہ کے پاس ایسی کوئی فوٹیج ہے تو وہ میڈیا پر چلائی کیوں نہیں گئی۔۔۔۔۔؟؟؟
اسکے بعد میڈیا پر جس بات کا سب سے زیادہ شور مچایا گیا وہ گاڑیوں کو جلانا تھا۔ اس کو بھی جمیعت ڈس اون کرتی رہی۔ لیکن اگر انہوں نے ایسا کیا بھی ہے تو  کیا کسی نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ بات یہاں تک پہنچی کیوں ۔ جیسا کہ میں نےپہلے ذکر کیا کہ اس سے پہلے جتنا بھی احتجاج ہوا وہ پر امن تھا اور ہاسٹل کی دیوار کی تعمیر سے پہلے تک ایک پتھر بھی نہیں چلا۔ دیوار کی تعمیر شروع ہونے پر طلبہ کا اشتعال میں آنا فطری تھا۔میرا سوال یہ ہے کہ جب یہ لوگ پر امن احتجاج کر رہے تھے تب اس  معاملے کو پر امن طریقے سے کیوں نہیں حل کیا گیا۔
 اس پورے تنازع میں میڈیا کا کردار حسب معمول مایوس کن رہا۔ میڈیا نے ان سارے حالات کا ذمہ دار طلبہ تنظیم کو ٹھہرایا اور انتظامیہ کو پوتر ثابت کرنے کےلئے اپنا پورا زور لگا دیا جس میں اسے خاطر خواہ کامیابی بھی ملی۔ میڈیا میں جو سب سے مضحکہ خیز بات سننے کو ملی وہ ہاسٹل ناظم کے کمرے سے تاش اور  شراب کی بوتل کا برآمد ہونا تھا۔ میں اس ناظم کو ایک سال سے جانتا ہوں اور اس تمام عرصے میں میں نے آج تک اس کو سگریٹ پیتے نہیں دیکھا ۔ بالفرض اگر  وہاں  شراب کی بوتل تھی بھی تو کیا ناظم اتنا بے وقوف تھا کہ پولیس ریڈ کی اطلاع کے باوجود بوتل ادھر چھوڑ گیا۔
اس واقعہ کے بعد جمیعت مخالفوں کی طرف سے جس چیز کا شدت سے مطالبہ کیا گیا  وہ جمیعت پر پابندی تھا۔  میں خود اس سے اتفاق کرتا ہوں کہ یونیورسٹی میں پڑھائی ہونی چاہیے سیاست نہیں لیکن یہ مطالبہ صرف جمیعت کیلئے کیوں باقی طلباء تنظیمیں جو گل کھلاتی ہیں وہ بھی سب کے سامنے ہے لیکن انکی کوئی بات کیوں نہیں کرتا۔ جمیعت میں بہت سی برائیاں ہیں  جن کی میں  بھی مخالفت کرتا ہوں لیکن  بہت سی اچھائیاں بھی ہیں اور دوسری طلباء تنظیموں سے یہ بہرحال بہت بہتر ہے۔ حکومت ن لیگ کی ہے غالباً انہی کے دور میں طلبہ یونین پر پابندی لگی تھی اگر اب بھی یہ  تعلیمی اداروں کو طلبہ سیاست سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ست بسم اللہ۔یہ کار خیر ایم ایس ایف سے شروع کریں  اور دیگر طلبہ جماعتوں پر بھی پابندی لگائیں وگرنہ صرف جمیعت پر پابندی کا کوئی اخلاقی جواز نہیں بنتا۔

7 تبصرے:

  1. تنظیم کوئی بھی اس کے ارکان کو ان کے ماں باپ پیٹ کاٹ کے پڑھنے کے لیئے بھیجتے ہیں اور وہاں جا کے یہ سیاست بگھارنے لگتے ہیں ۔ ظالمو پہلے کچھ پڑھ لکھ لو پھر کر لینا سیاست یا پھر سیاہ ست

    جواب دیںحذف کریں
  2. چلو دیر آید درست آید
    ہمیں بھی یہی شکوک تھے حالانکہ ہمیں جمعیت سے ہمدردی نہیں لیکن انتظامیہ کی بد نیتی پر کوئی شبہ نہیں
    بلاگ وقت پر لکھنے سے آپ کی ٹریفک بڑھے گی اور ٹریفک بڑھنے سے آپ کا حوصلہ بڑھے گا

    جواب دیںحذف کریں
  3. جمعیت کے بہت سےلوگ اچھے بھی ہیں مگر اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کیا جا سکتا کہ مذہبی جماعت کی آڑ میں بہت بدمعاشی بھی مچائی رکھی اِنہوں نے۔ میں طلبہ تنظیموں پر پابندی کا حامی نہیں ہوں یہ سیاست کی نرسریاں ہوتی ہیں مگر طاقت کے بیچا اِستعمال سیاسی جماعتوں کا اثرو رسوخ ہرحال میں قابلِ مُزمت ہے۔ آپ کا بہت بہت شُکریہ کہ آپ نے ون سائڈڈ میڈیا کو رد کرتے ہوئے واقعہ حقیقی انداز میں پیش کیا

    جواب دیںحذف کریں
  4. @محمد ریاض شاہد: بجا فرمایا عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے عملی سیاست سے دور رہنا ہی بہتر ہوتا ہے اور ویسے بھی طالبعلم کا سیاست سے کیا کام اور اس ضمن میں ہمارے تعلیمی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرتے جس کو پھر طلبہ تنظیمیں جواز کے طور پر پیش کرتی ہیں

    جواب دیںحذف کریں
  5. @علی: ہمدردی تو ہمیں وی نہیں لیکن انتظامیہ کی حرکتوں نے کچھ کچھ ہمدردی کرنے پر مجبور کر دیا ہے کیونکہ بیچارے جوتے بھی کھاتے رہے اور پھر گالیاں بھی۔ اور جہاں تک حوصلے کا سوال ہے وہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے اپنی انتہا پر ہوتا ہے کہ کل یہ بھی کرنا ہے اور یہ بھی اور بلاگ تو ضرور لکھنا ہے پر جب صبح اٹھتا ہوں تو یاد ہی نہیں رہتا کہ کیا کیا کرنا تھا :ڈ

    @دوہرا ح: جی بالکل اچھے بھی ہیں اور بہت برے بھی۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو پاور حاصل کرنا چاہتے ہیں چاہے کسی بھی جماعت کے پلیٹ فارم سے ملے اگر یہاں پر جمیعت کے علاوہ کوئی اور جماعت ہوتی تو ماسوائے چند لوگوں کے اکثریت اس جماعت میں ہوتی۔ اور اگر سیاست کی نرسریاں ہوں گی تو پھر ان نرسریوں میں بھی وہی کچھ ہوگا جو ہمارے ہاں ہوتا ہے :)

    جواب دیںحذف کریں
  6. جمعیت والوں نے اگر اساتذہ کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی اور ان کی غلط بدنام کیا گیا تو اس کا اجر وہ اللہ تعالٔی سے پائیں گے۔ ویسے بھی اساتذہ کا ادب ہی کرنا چاہیئے ۔۔
    اس سے پہلے انہوں نے پروفیسر افتخار بلوچ کو انہوں نے زدوکوب کیا تھا ۔۔ اور بعد میں وہ ثابت بھی ہو گیا کہ وہ بدکردار تھا۔
    میں بہت سے اساتذہ کو جانتا ہوں سچی بات ہے کہ وہ اپنے کردار کے حوالے سے استاد کہلانے کے حقدار ہی نہیں ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. بہت عمدہ میرے بھائی اللہ کرئے زور قلم اور زیادہ ۔۔۔۔ میں اسلامی جمعیت طلبہ کا حصہ ہوں اور سٹوڈنٹ ہوں اسلامی جمعیت طلبہ میں ضرور خامیاں بھی موجد ہیں اور انسان ہونے کے ناطے اس کا اقرار بھی ہونا چاہیے مگر جب استاد شاگرد سے لڑائی کرنے کگ جائے اور استاد کی طرح سمجھانے کے بجائے دشمن بن کر سامنے آ جائے تو جوانی کا جوش اور ہٹ دھرمی طلبہ سے بھی بہت سی غلطیاں کرواتی ہے جس کو گھر کا نادان بیٹا سمجھ کر کان سے پکڑ کر ٹھیک کروایا جا سکتا ہے کیوں کہ یہ استاد ہمارے ہی باپ ہیں اور ہمارے اخلاق و کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر ایسا جامعہ پنجاب میں کبھی نہ ہوا باقی آپ نے جو مسلئہ تھا اس پر خوب لکھا اللہ آپ کو ہمشہ سچ لکھنے کی توفیق دے آمین

    جواب دیںحذف کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ