جمعرات، 21 نومبر، 2013

حسرت دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں

حسرت دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں
چاہت وصل لئے کبھی جیتا کبھی مرتا ہوں
شب کی تاریکی میں شمع کو پانے کیلئے
میں دیوانہ اسی آگ میں جل مرتا ہوں
دشت زیست میں اک عمر سے آبلہ پائی کر کے
زخم پیروں کے میں کانٹوں سے سیا کرتا ہوں
اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کے فسانے سن کر
اپنی بربادی کے قصے خود ہی لکھتا خود ہی پڑھتا ہوں
بعد از رنج و الم راحت بھی کبھی ہو گی نصیب
اسی امید پہ شکوہ نہ گلہ کرتا ہوں

(محمد عبداللہ)

3 تبصرے:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ