اتوار، 13 جنوری، 2013

میں کیا ہوں ،بھٹکا ہوا مسافر ،گرم ہوا سے جو جل رہا ہے

میں کیا ہوں ،بھٹکا ہوا مسافر ،گرم ہوا سے جو جل رہا ہے
اندھیر شب میں کھڑا جو تنہا،افق کی جانب وہ تک رہا ہے
وجود جسکا ہے ریزہ ریزہ، ہے دل میں جس کے چبھن چبھن سی
شکستہ لب اور برہنہ پا جو، پر خار وادی میں چل رہا ہے
اجاڑ رستے ہیں جسکی راہ اور،ویران کھنڈر ہیں جسکا مسکن
کھو کے رہبر کو وہ اپنے، دربدر اب بھٹک رہا ہے
شباب جس کا ہے ناتواں اور، کمر ہے جسکی جھکی جھکی سی
سازش اپنوں کی دیکھ کر وہ،ذرہ ذرہ بکھر رہا ہے
وہ جس کو اپنوں نے مار ڈالا، وہ جس کو گھر سے نکال ڈالا
 اب وہ  مثل مرغ بسمل، پڑا زمین پر تڑپ رہا ہے
پھنسا ہوا ہے جو ہر طرف سے، شکستہ حالات کے بھنور میں
ویرانیوں میں کھڑا وہ تنہا،قدم قدم پر وہ گر رہا ہے
جس مکاں کا ہے وہ باسی، مکین اسکے تو مر چکے ہیں
کٹے پھٹے دیکھ کر وہ لاشے، موت سے پہلے مر رہا ہے

(محمد عبداللہ)

1 تبصرہ:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ