جمعہ، 26 اکتوبر، 2012

کس کے لئے؟؟؟؟؟

میں بھوکا ہوں ، میں بے گھر ہوں ، یہ ملک بنا ہے کس کے لئے
میرا روز جنازہ اٹھتا ہے، میں زندہ ہوں تو کس کے  لئے

میں دن بھراپنے پیاروں کی ،لاشوں کے ٹکڑے چنتا ہوں
اب اپنی ایسی حالت میں، میں خوشیاں مناؤں کس کے لئے

میرے حاکم میرے مرنے پر، خوشیوں کے جشن مناتے ہیں
میں اپنے غم اور غصے کو ، سینے میں چھپاؤں کس کے لئے

اب تلوے میرے پاؤں کے، کانٹوں سے چھلنی رہتے ہیں
میں اس دنیا کی راہوں میں، پھول بچھاؤں کس کے لئے

مجھے ہر جانب سے نفرت کے،  تیروں کو سہنا پڑتا ہے
سینے میں اپنے محبت کے، میں دیپ جلاؤں کس کے لئے

میرے حاکم میرے واعظ سب، عیش کی زندگی جیتے ہیں
اور میں اپنے ہی بھائیوں سے، ہوں دست گریباں کس کے لئے

(محمد عبداللہ)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ