ہفتہ، 1 ستمبر، 2012

جاؤں کہاں؟؟؟؟


اے نوع بشر ، کیا تجھ کو خبر
توآج یہاں، تو کل ہے کہاں

تقدیر کے سارے کھیل ہیں یہ
ہے تجھ سا کوئی نادان کہاں

تو نے ہر سو نفرت بو دی ہے
کانٹے ہیں یہیں، ہیں پھول کہاں

تو  بدبو کا  سوداگر  ہے
خوشبو کا تاجر گیا کہاں

خود غرضی ہر سو پھیلی ہے
بے غرضی کا ہے گزر کہاں

قانون یہاں جنگل کا ہے
انصاف کا ہے دستور کہاں

منصف بھی اب کے ظالم ہیں
میں لے جاؤں فریاد کہاں

انصاف یہاں پر بکتا ہے
عادل کا در میں ڈھونڈوں کہاں

یہاں ہر روز لاشیں گرتی ہیں
ہے اتنا ارزاں خون کہاں

جینا بھی یہاں اب مشکل ہے
اب ا ور کہیں میں جاؤں کہاں

(محمد عبداللہ)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ