اتوار، 1 جولائی، 2012

ہوتا ہے شب و روز تماشا مر ے آگے

واہ رے قسمت! وطن عزیز کی سیاست، ہر روز نئے نئے لطیفے سننے کو ملتے  ہیں۔ روز کوئی نیا ڈرامہ اور نیا سکینڈل عوام کی تفریح کے لئے پیدا ہو جاتا ہے یا کر دیا جاتا ہے۔جونہی ایک  سکینڈل پر شور ذرا کم ہوا  وہیں سیاسی پٹاری سے نیا سانپ برآمد ہو جاتا ہے۔ ہمارے عوام دوست سیاستدان عوام کو تفریح پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ  سے جانے نہیں دیتے۔ ان سیاستدانوں کے عوام اور ملک پر بے بہا احسانات ہیں۔آپ خود سوچیں کہ اتنے پر فتن  دور میں جب ہر طرف حشر برپا ہے، حکومت اور ہمارے "منتخب نمائندے" ہمیں اپنی قلابازیوں اور تماشوں سے محظوظ کر رہے ہیں تاکہ مصیبت کے مارے لوگوں کہ چہرے پر مسکراہٹ آ سکے
حکومت نے ہماری ثقافت کے لئے بھی بہت کام کیا ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی کھیل مثلاً پہلوانی وغیرہ زوال کا شکار ہو چکے ہیں اور پہلوان اور ان کے اکھاڑے تو یوں غائب ہوئے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ان حالات میں ہماری حکومت ہی ہے جس نے اس کھیل کو بچانے کی سنجیدہ کوشش کی ہے اور سیاسی اکھاڑے وجود میں آئے ہیں اور ہمارے سیاست دان باقاعدگی سے اسمبلی میں اسکی پریکٹس بھی کر رہے ہیں۔اسکے کے ساتھ ساتھ حکومت کو تھیٹر کی فکر بھی لاحق  ہو گئی ہے اور اسکو بامِ عروج پر پہنچانے کے لئے ہمارے سیاست دان ہمیشہ کی طرح میدان میں کود پڑے ہیں۔اسکی مثالیں بھی آپکے سامنے ہیں کہ صوبائی اور وفاقی ایوانوں میں وہ جگت بازی، رسہ کشی اور کشتی ہوتی ہے کہ بڑے بڑے نامور کامیڈین اور پہلوان حیرت زدہ رہ جائیں۔اس سارے منظر نامے میں عوام کے فائدے کی بات یہ ہے کہ عوام کالانعام کو بھی لائیو شو دیکھنے کو مل جاتے ہیں اور وہ بھی بغیر ٹکٹ کے۔ اس سے بڑھ کر عوام دوستی کیا ہو سکتی ہے
ان تماشوں میں خیر کا ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے وہ ہمارے سیاست دان خود کر دیتے ہیں۔ یعنی ہم شدید خواہش کے باوجود کسی ایم۔این۔اے یا ایم۔ پی۔ اے کو گالی نہیں دے سکتے، اسکی ماں بہن کی عزت نہیں اچھال  سکتے  اور نہ ہی کسی خاتون سیاستدان  کو بازاری جملوں کے ساتھ برا بھلا کہہ سکتے ہیں۔اور ہم ہم کسی  پر جوتے اچھال سکتے ہیں اور نہ ہی گھونسے مار سکتے ہیں ۔اسلئے  ہماری بےبسی کو بھانپتے ہوئے ہی فریضہ بھی ہمارے محبوب سیاست دان سر انجام دے رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر ہماری خواہشات کی تسکین کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ اب آپ بجٹ کو ہی لے لیں کہ بجٹ اجلاس کے دوران  ہمیں ایسا تماشہ دیکھنے کو ملا کہ ہماری طبیعت باغ باغ ہو کئی۔ اس تماشے میں ہمارا کام بھی ہو گیا اور انکا بھی۔ ہم نے مفت میں کشتی دیکھ لی اورانہوں نے گھونسے چلانے کے بعد  جمہوریت اور ملک کے وسیع تر مفاد میں بجٹ بھی منظور کر لیا۔
پارلیمنٹ میں جوتا بازی اور لوٹوں کی نمائش کرنا تو معمول کی بات ہے۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ وطنِ عزیز میں لوٹوں کی بہت بڑی انڈسٹری موجود ہے اور یہاں پلاسٹک کے لوٹوں سے لیکر گوشت پوست  کے لوٹوں تک ہر قسم کی کوالٹی موجود ہے جو یقیناً خوش آئند بات ہے۔اور اگر  آپ نے کبھی لوٹے کے ہاتھ میں لوٹا نہ دیکھا ہو تو اب دیکھ لیں کیونکہ یہ معجزہ بھی ہمارے قابل سیاست دانوں کے ہاتھوں وقوع پذیر ہوا ہے اور ہماری پارلیمنٹ کے ہر لوٹے کے ہاتھ میں ایک عدد لوٹا موجود ہوتا ہے اور یہ بھی جمہوریت کا حسن ہے۔
ایک تازہ اور بڑا تماشہ تو راجہ رینٹل کے وزیراعظم بننے کا ہے جس بندے کو واپڈا میں لائن مین ہونا چاہئے  تھا وہ وزیراعظم لگ گیا ہے۔ آپ لگنے پر ضرور چونکے ہوں گے لیکن حوصلہ رکھئے ہم ابھی وضاحت کئے دیتے ہیں ۔یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ وزیراعظم ہونے کا مطلب پاکستانی سیاست کے گرو  اور بینظیر بھٹو کے شوہرِ نامراد کا بے دام غلام ہونا ہے اور ہمارے پی ایم، پاکستانی پی ایم کم اور زرداری صاحب کے پیون (peon) زیادہ ہوتے ہیں۔ گیلانی صاحب کی مثال آپکے سامنے ہے نئے  پی ایم بلکہ پیون  بھی یہی حلف اٹھا کر پی ایم ہاؤس میں داخلے کے قابل ہوئے ہیں۔  راجہ رینٹل تو ابتدائی  دنوں میں ہی زرداری صاحب کے اشارے پر پھلجھڑی چھوڑ چکے ہیں ۔ انکا فرمانا یہ ہے کہ کوئی تھرڈ کلاس مجسٹریٹ، صدر  کو عدالت طلب نہیں کر سکتا ۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہمیں نئے تماشوں کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اسکے ساتھ ساتھ صدر صاحب بھی  پیپلز پارٹی کے بکروں کی قربانی کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور جیالے قربان ہونے کے لئے ۔
ان حالات میں ہمارے خادم ِ اعلیٰ کیوں کسی سے پیچھے رہتے انہوں نے بھی مینارِ پاکستان کے سائے تلے اپنا ڈرامہ شروع کیا ہوا ہے۔ اور ہاتھ میں دستی پنکھے لئے فوٹو سیشن میں مصروف ہیں اور مزے کی بات یہ کہ عوام کے ساتھ یکجہتی کے اس ڈرامے کے فوٹو شوٹس میں انکے سامنے منرل واٹر کی بوتلیں دھری نظر آتی ہیں۔ شائد انکے نازک معدے لاہور کا پانی برداشت نہیں کر سکتے اور انہیں عوام کے غم میں متلی ہونے لگتی ہے۔ اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج والا ڈرامہ تو سب پر بازی لے گیا ہے کیونکہ اختیار ہونے کے باوجود ہمارے خادمِ اعلیٰ بجلی بنانے سے قاصر ہیں اور اگلا الیکشن جیتنے کی صورت میں چند ماہ میں بجلی بحران ختم  کرنے کے بھاشن دے رہے ہیں۔ اسوقت نجانے انکے ہاتھ کونسا جادو کا چراغ آ جائے گا کیونکہ یہ اختیار تو صوبوں کے پاس ہے نا کہ وفاق کے پاس۔ اس سادگی پہ کون نا مر جائے اے خدا
الغرض تماشے تو بہت ہیں سب کا ذکر مختصراً تو ممکن ہی نہیں۔ میں تو ان تماشوں اور سیاسی شعبدہ بازیوں کو بہت انجوائے کرتا ہوں اور آپکو بھی میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ بھی یہ سب دیکھ کر دل نہ جلایا کریں بلکہ سیاسی مداریوں  کے تماشوں کو انجوائے کیا کریں اور بلاوجہ کے ڈپریشن سے نکلیں۔ ویسے بھی ہمیں ہر بات کے مثبت پہلو دیکھنے چاہئیں۔ منفی پہلو دیکھنے  اور ان پر تنقید کرنے سے  آپ جمہوریت کے خلاف سازش جیسے گناہِ عظیم کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ