ہفتہ، 30 جون، 2012

زندگی کی راہوں میں ہر طرف اندھیرے ہیں


زندگی کی راہوں میں ہر طرف اندھیرے ہیں
اس سرائے دہر میں مایوسیوں کے ڈیرے ہیں

زندگی کے سالوں میں، نہ کوئی رہنما پایا
ہر جانب اس دنیا کے، ڈاکوؤں کے پہرے ہیں

میں اکثر سوچتا ہوں کہ، ہماری کیسی قسمت ہے
مسیحا مثل قاتل ہیں، اور رہنما لٹیرے ہیں

اس اندھیری رات میں، نہیں کوئی نوید صبح
اور میرے نقیب قوم، مجھے اکثر ڈراتے ہیں

کھڑا ہوں بند گلی میں اک، کہ شائد کوئی آ جائے
مگر میری امیدوں کے، یہ ڈورے ٹوٹ جاتے ہیں

الٰہی کرم ہو تیرا، نکال اس ظلمت شب سے
یہ بندے تیری رحمت کی، امیدیں باندھے بیٹھے ہیں

                        (محمد عبداللہ)

1 تبصرہ:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ