بدھ، 16 مئی، 2012

پھر محبت کرنے چلا ہے تو


وہ رونی صورت بنائے میرے سامنے خاموش بیٹھا تھا پریشانی اور بیچارگی اس کے چہرے سے ٹپک رہی تھی وہ بار بار اپنی مٹھیاں بھینچ رہا تھا شائد پھر اسکی کسی گرل فرینڈ نے اسے دھوکا دیا تھا۔
کسی نے تیرے مشہور زمانہ سکوٹر کی ہوا نکال دی کیا؟ میں نے ہمدردی سے اسے پوچھا
اس نے اپنی لال ہوتی آنکھوں سے مجھے گھورا
یا تیرے بم کا سٹاک پکڑا گیا؟ میں نے مزید ہمدردی کا اظہار کیا
لیکن وہ سر جھکا کے بیٹھا رہا
مجھے معاملے کی سنگینی کا احساس ہوا
تو بتا تجھے کیا پریشانی ہے؟ تیرا بھائی تیرا مسئلہ چٹکی میں حل کر دے گا۔۔ میں نے ہمدردی کا اظہار کیا
تو کچھ نہیں کر سکتا ! اس گلوگیر لہجے میں کہا
میں کر لوں گا تو بتا تو سہی؟ میں نے پھر پوچھا
نہیں تو کچھ نہیں کر سکتا تو بس میری بے بسی کا تماشہ دیکھ! اس نے وہی جواب دہرایا
ارے میرے باپ کچھ بتا تو سہی تو چاہتا کیا ہے؟ میں نے غصیلے لہجے میں کہا
کچھ نہیں یار میں بس مرنا چاہتا ہوں  مجھے اب زندہ نہیں رہنا۔ میر اب اس دنیا  میں کوئی نہیں ۔ اس نے مایوسی سے  کہا
ارے واہ !! یہ نیک کام تو میں ابھی کر دیتا ہوں، تیری خواہش بھی  پوری ہو جائے گی اور لوگ بھی سکون کا سانس لیں گے۔ میں نے خلوص بھری پیشکش کی
یار دانی ! میں بہت زیادہ پریشان ہوں اور تو مذاق کر رہا ہے۔ تو بجائے میرا غم بانٹنے کے میرا مذاق اڑا رہا ہے۔ تیرے جیسے کمینے  دوست کی دوستی کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس نے شکائتی لہجے میں کہا
جان جگر بتا نا کیا مسئلہ ہے تیرے لئے تو  میری جان بھی حاضر ہے۔بالآخر مجھے بھی سنجیدہ ہونا پڑا
یار وہ بھی مجھے چھوڑ گئی، دو ہفتوں بعد اسکی شادی ہے۔ اس نے غمگین لہجے میں کہا
کون؟ مجھے بتا میں اسے گردن سے پکڑکر تیرے سامنے حاضر کر دوں گا، اسکی جرات کیسے ہوئی تجھے دھوکہ دینے کی۔ میں نے فورا اپنی خدمات پیش کیں
اوئے تمیز سے بات کر،آئندہ اس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کیئے تو میرے  سے برا کوئی نئیں ہو گا ۔ اس نے مجھے گھونسہ  جڑ دیا
وہ تو اب بھی کوئی نہیں ہے۔ میں نے اپنا کندھا سہلاتے ہوئے کہا
لیکن وہ ہے کون؟ کچھ بکواس تو کر میں نے اسکی مسلسل بکواس سے تنگ آ کر کہا
یار وہ میری ہمسائی ہے، کئی ماہ پہلے ہمارے محلے میں شفٹ ہوئی تھی اب اسکی شادی ہو رہی ہے۔
اوہ تیری 13ویں محبت!!!! میں اب سمجھا ۔
بکواس نا کر یار میں اس سے سچی محبت کرتا ہوں۔ میں اب اس کے بغیر نہیں  رہ سکتا۔میں نے  اپنے مستقبل کے بہت سے حسین سپنے دیکھے تھے۔ بہت سے وعدے کئے تھے ہم نے۔ اس نے مجھ سے کہا تھا کہ"میں تمہارے  ساتھ نا  رہی تو مر جاؤں گی" وہ تو نا مری لیکن مجھے زندہ لاش بنا گئی۔ اسکی جدائی کا احساس بھی میرے لئے سوہان روح ہے۔ وہ مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لئےجلتا  چھوڑ گئی۔ وہ سب وعدے وعیدیں بھول گئی۔ اور دانی پتا ہے اس نے مجھے کیا کہا؟   اس نے میری طرف دیکھا
کیا؟؟؟ میں نے سوالیہ نظروں سے اسکی طرف دیکھا
وہ کہتی" مجھے تم جیسے نکھٹو، جاہل اور بیک ورڈ آدمی سے شادی نہیں کرنی۔ تمہارے پلے تو کچھ بھی نہیں ہے نہ گاڑی اور نہ بڑا گھر اور نہ کوئی اچھی جاب یا بزنس" دانی  دنیا میں کوئی چیز محبت سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے؟ کیا ہوا اگر میرے پاس یہ سب نہیں ہے تو؟ میں اسے ساری دنیا سے زیادہ محبت دے سکتا ہوں۔ وہ  گلوگیر لہجے میں بولتا چلا گیا
میرےبھائی اس مادہ پرست اور ظالم دنیا میں محبت کو کوئی نہیں پوچھتا۔ سب بنک بیلنس، سٹیٹس، بنگلوں اور گاڑیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ جذبات اور احساسات کی ان لوگوں کے نزدیک کوئی وقعت نہیں ہوتی۔ میں بھی جذباتی ہو کر بولتا چلا گیا
اب بتا میں کیا کروں؟ اس کی منتیں کروں اسکو اسکے وعدے یاد دلاؤں یا اس دنیا کو ہی چھوڑ جاؤں۔ اس نے مجھے اپنا ہمدرد سمجھتے ہوئے مشورہ طلب کیا
تو کیا کر سکتا ہے ؟ کچھ بھی نہیں اگر تیرے پاس یہ ساری چیزیں نہیں تو تو کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔ اس دنیا سے لڑنا تیرےبس کی بات نہیں۔ بس اب اسے بھول جا اور کوئی نئی لڑکی ڈھونڈ شائد وہ ہی تیرے کئے با برکت  ثابت ہو۔ میں نے اسے ہمدردانہ مشورے سے نوازا
بکواس  بند کر!! وہ غصے سے چلایا۔ اسکے علاوہ کسی کا نام بھی تیرے منہ پر نہ آئے۔ میں اسکے علاوہ کسی لڑکی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ میں ساری زندگی اکیلا رہ لوں گا لیکن اسکی جگہ کسی اور کو نہیں دوں گا۔ وہ میری نہیں ہوئی تو کیا ہوا میں اسکا ہوں نا
میں اسکا ہوں صرف اسکا!! کوئی اور لڑکی  اسکی جگہ نہیں لے سکتی۔اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا اور مجھے اسکے عشق کی سچائی پر یقین  سا ہو گیا کہ یہ جو کہہ رہا ہے سچ کہہ رہا ہے اور یہ ساری زندگی اپنی بات قائم رہے گا
اسی لمحےایک  خوبصورت لڑکی ایک ادھیڑ عمر خاتون کے ہمراہ پارک میں داخل ہوئی اس نے جاگنگ سوٹ پہن رکھا تھا اور اس میں بھی وہ انتہائی دلکش دکھائی دے رہی تھی ۔ اچانک  میرے دوست کی نظر اس پر پڑگئی اور وہ اسے دیکھتے ہی چلایا " دانی وہ دیکھ! حسن ہو تو ایسا۔ رک میں اسے اپنا سیل نمبر  دے کر ابھی آیا" یہ کہہ کر وہ تیزی سے جاگنگ ٹریک کی طرف لپکا اور میں اسے حیرت سے دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔

3 تبصرے:

بلاگ پر تشریف آوری کا شکریہ